سری نگر یوم پاکستان مبارک باد کے پوسٹروں سے سج گیا

سچ تو یہ ہے،
————
bashir

بشیر سدوزئی ۔

23 مارچ 2021ء یوم پاکستان کے موقع پر سخت اسکورٹی اور لاکھوں فوجی اہلکاروں کی موجودگی میں حریت پسندوں نے سری نگر سمیت دیگر علاقوں کی درو دیواروں کو پوسٹروں سے بھر دیا، جن میں پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد دی گئی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری کی گئی تصویروں اور خبروں کے مطابق پوسٹر جموں وکشمیر لبریشن الائنس اور اہل جموں و کشمیر اور دیگر اداروں و تنظیموں کی جانب سے نصب کئے گئے جو بھارتی فورسز کے مدمقابل آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور کوئی موقع نہیں چھوڑتی کہ وہ فورسز کو اپنی موجودگی کا احساس نہ دلائیں ۔ سری نگر میں جو پوسٹر چسپاں کیے گئے ان پر قائد اعظم محمد علی جناح سید علی گیلانی، محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، مسرت عالم بٹ ، آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کی تصویریں شائع کی گئی ہیں۔ امید ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستانی عوام ایک مضبوط و مستحکم پاکستان کے لیے کام کرتے رہیں گے ۔ مستحکم پاکستان ہی خطے میں امن کی ضمانت ہے۔ “مجاہدین مسلح محاذ آزادی جموں کشمیر ” کی طرف سے سرینگر ، بڈگام ، شوپیاں سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں چسپاں کئے گئے پوسٹرز میں دل دل پاکستان….. جان جان پاکستان سرخی کے ساتھ لکھا ہے ” ہم یوم پاکستان کے مواقع پر پاکستان کی غیور عوام کو پوری کشمیری عوام کی طرف سے مبارک باد پیش کرتے ہیں، اور دعا گو ہیں کہ اللہ پاک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے-پاکستان ہماری امیدوں کا مرکز ہے – پاکستان کی محبت ہمارے دل میں روشنی کی طرح چمکتی ہے” ان پوسٹرز پر مندرجہ ذیل نعرے بھی درج ہیں جو کشمیری جلسہ جلوسوں میں لگاتے ہیں ۔کشمیر بنے گا پاکستان ۔پاکستان زندہ آباد ۔ علاوہ ازیں وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں کشمیری قوم کی طرف سے پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان سے والہانہ اظہارِ عقیدت و محبت کیا گیا، گھروں کی چھتوں اور بالکونیوں پر پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں ۔ بعض پرچموں پر درج ہے۔ ہم پاکستانی ہیں… پاکستان ہمارا ہے۔جیوے جیوے……. پاکستان ۔ تیری جان میری جان… پاکستان پاکستان ۔کشمیر بنے گا……. پاکستان۔ دریں اثناء “الاقصٰی میڈیا جموں کشمیر” کی جانب سے ” اے اسلامیان جموں کشمیر” کی سرخی کے ساتھ ایک طویل تحریر کے پوسٹر بھی شوپیان ، گاندربل ، کولگام ، پلوامہ ، بارہمولہ سمیت وادی کشمیر کے دیگر اضلاع میں چسپاں کیا کئے گئے جس میں عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ” اے اسلامیان جموں کشمیر ” وقت کا تقاضا ہے کہ آپ کا قلم و سوشل میڈیا بھی بندوق کی طرح ہندوستان کے جابرانہ و غاصبانہ قبضے کے خلاف برسرپی کار ہو جائے ۔ ” اے قلم کارو ، اے دانشورو، اے صحافیو، اے شاعرو، اے مصنفو، اے استادو، اے طالب علمو ” اپنی علمی و تحریری صلاحیتوں سے ہندوستان کی مشرکانہ و غاصبانہ ، چانکیائی،انسانیت سوز چالوں اور ہندوتوا پالیسیوں کو بےنقاب کریں ۔ ہندوستان اس وقت کھلم کھلا اسلام و کشمیر بلکہ انسانیت دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے ، ھم ہر طبقہ حیات بالخصوص اھلِ جموں لداخ سے ابلاغی (میڈیائی) محاذ پر یکسوئی سے سرگرم ہو جانے کی اور جارح و حملہ آور ہندوستان کے خلاف جہاد بل قلم کی سعادت حاصل کرنے کی اپیل کرتے ھیں ۔ “اے اہلیانِ جموں کشمیر !” شہداء کرام کے مبارک لہو انمٹ ، انمول قربانیوں کی لاج رکھیں ، اپنے قلم کی روشنائی سے داستانِ آزادی رقم کریں ۔ ہندوستانی استعمار کو ہر ہر طرح بےنقاب کریں ۔ اپنے شہداء کرام ، اسیرانِ عظام اور تحریک سے متاثرہ گھرانوں کا ھر ھر طرح سے خیال کریں ۔ اللہ رب العالمین آپ سب کا حامی و ناصر ہو ۔ کشمیری یوم پاکستان کے موقع پر پاکستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے، بھارتی فورسز علاقوں کو گھیرے میں لے کر نوجوانوں کو ہلاک اور گرفتار کرنے کی کارروائیوں میں مصروف تھیں۔ اسی روز شوپیان میں چار نوجوانوں کو شہید کر کیا گیا جن میں رئیس احمد، عامر شفیع ، رائیس احمد بٹ اور عاقب احمد وانی شامل ہیں ۔ شوپیاں گزشتہ 20 روز سے مسلسل گھیرے میں ہے اب تک درجنوں افراد کو گرفتار و شہید گیا جا چکا ۔ ادھر مودی اپنے ہم منصب کو یوم پاکستان کی مبارک کا خط روانہ کر رہا تھا ۔ اندریں خانہ میل ملاپ پر رضامندی اور تجارت و سفارتی تعلقات کی بحالی پر گفتگو آخری مراحل طہ کر چکی تھی ۔لیکن پاکستان کی محبت میں گرفتار دیوانے کشمیریوں کو اس کی خبر تک نہ تھی۔ کشمیریوں نے کبھی بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور بہتر تعلقات کی نہ کبھی مخالفت کی نہ اس حق میں ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی نہ ہو۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا خاتمہ اور اچھے ہمسائے کے تعلقات نہ صرف خطہ میں امن و ترقی اور دو ڈھائی ارب عوام کی خوش حالی اور سکون کے لیے ضروری ہے بلکہ کشمیریوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے تاہم دونوں ممالک اور امن کے متلاشیوں کو اس سے قبل بدامنی کی وجہ ختم کرنا ہو گی جو مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کی حق آزادی کو تسلیم کرنا ہے۔ بصورت دیگر خطہ میں کی جانے والی امن کی کوششیں وقت گزاری کے سوا کچھ نہیں ۔ ماضی کے حکمرانوں نے بھی کئی مذاکرات کئے اور کئی معائدے لیکن کوئی بھی عمل دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اصل مسئلہ کو پست پشت ڈال کر خطہ میں امن قائم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور دوستی کے راگ الاپنا وقت کو دھکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ۔5 اگست 2019ء کے بعد فوجی محاصرے کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس دوران 7 خواتین سمیت 323 کشمیری شہید کیے گئے جن میں سے اکثریت ایسے افراد کی ہے جن کو محاصرے اور تلاشی کی نام پر کارروائیوں میں گھروں سے حراست میں لینے کے بعد ان پر مجاہد ہونے یا پھر مجاہد تنظیموں کےساتھ کام کرنے کا الزام عائد کیا اور تشدد کر کے شہید کیا گیا۔ 17 خواتین بیوہ جبکہ 39 بچے یتیم ہو گئے۔ پرامن شہریوں پر فائرنگ ، پیلٹ چھروں اور آنسو گیس سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں 1ہزار7سو 53 افراد شدید زخمی ہوئے ۔ حریت ہنماﺅں ،کارکنوں، خواتین ، طلبا اور کم عمر لڑکوں سمیت کم از کم 14ہزار 6 سو 21 افراد گرفتار اور کالے قوانین لاگو کیے گئے۔ اس عرصے کے دوران 1ہزار 8 مکانات اور دیگر عمارتیں تباہ کیں جبکہ 106 مقدس عمارتوں کی بے حرمتی اور تالا بند کر دیا گیا ۔ان پرتشدد کارروائیوں سے بھی کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت نکالنے میں بھارت کامیاب نہیں ہو سکا ۔ اگر کبھی ایسا ہوا تو وہ آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤں اور ہمارے رویوں سے ہو گا آزاد کشمیر کے لیڈر اور سیاسی جماعتیں انتخابی مہم پر ہیں تمام لوگوں کو اسی چکر میں لگایا ہوا ہے، ان کو مقبوضہ کشمیر کی کوئی فکر نہیں بھارت ایک دن میں چار چار نوجوانوں کو قتل کر رہا ہے بیس کیمپ کے لوگوں کی زبان بند ہے ۔ بھارت کے خلاف کچھ مظاہرے، کوئی احتجاج کوئی پریس کانفرنس کوئی بیان کچھ بھی نہیں ۔ سب ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں لگے ہوئے ہیں اگر مل کر یہی توانائی بھارت کے خلاف استعمال کی جائے جو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں ہو رہی ہے تو بھارت مقبوضہ کشمیر میں تشدد بھی کم کرتا اور دنیا بھر میں بے نقاب بھی ہوتا۔ حکومت کو کوئی بھی اقدام اٹھانے سے پہلے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینا چاہیے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کے خاتمے اور تعلقات کی بحالی میں کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔اس سے پہلے بھارت میں قید حریت رہنماوں کو آزادی دلانا مذاکرات کی لازمی شرط کے طور پر شامل ہونا چاہئے تاکہ پاکستان کے نام پر قربان ہونے والے نوجوانوں کے ورثاء کے دلوں میں کوئی شک و شبہ پیدا نہ ہو اور جو لوگ پابند سلاسل ہیں ان کو کچھ سہولت تو میسر آئے۔۔۔۔