بھارتی طیارے گرانے والے پاکستانی پائلٹ ہمارے ہیرو ہیں یا نہیں؟

  27 فروری کو جن پاکستانی بہادر پائلٹس نے بھارتی جہاز گرائے ان کے نام سرکاری طور پر قوم کے سامنے کیوں نہیں لائے گئے؟کیا بھارتی جہاز گرانے والے پاکستانی پائلٹ ہماری قوم کے ہیرو ہیں یا نہیں؟اگر وہ ہمارے ہیرو ہیں تو ان کا نام لینے سے ہم ہچکچا کیوں رہے ہیں جنہیں میڈل دینے چاہیٴںے ان کا نام چھپایا جا رہا ہے آخر ایسا کیوں ہے؟ یہ سوالات سیاسی حلقوں میں چوہدری نثارعلی خان کی پریس کانفرنس کے دوران کی گئی باتوں کے بعد اٹھائے جارہے ہیں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اپنی پریس ٹاک میں یہ کہا کہ کیا وجہ ہے کہ بھارتی جہاز گرانے والے پاکستانی پائلٹ کے نام سامنے نہیں لائے جا رہے ہیں؟ یہ سوال تو واقعی بنتا بھی ہے ۔23 مارچ کے موقع پر بھی لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جن پاکستانی پائلٹ نے بھارتی جہاز گرائے ان کو کوئی اعزاز ایوارڈ کا موقع کیوں نہیں دیا گیا ۔اس پر بحث ہوئی تو بعض لوگوں نے جواب دیا ہے کہ یہ نام تو بہت پہلے فائنل کر لیے گئے تھے 14 اگست کو اعلان کیا جاتا ہے ۔




لیکن پھر سوال ہوا کہ نیوزی لینڈ کے حملوں میں جس پاکستانی نے دہشت گرد کو قابو کرنے میں اپنی جان کی قربانی دی اور بہادری کا مظاہرہ کیا اس کا نام تو آگیا لیکن بھارتی طیارے گرانے والے پاکستانی پائلٹ کے نام سامنے نہیں آئے ان کی شناخت چھپانے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے اس میں کوئی مصلحت ہے۔ اب چودھری نثار علی خان نے بھی یہ نکتہ اٹھا دیا ہے تو سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث شروع ہو گئی ہے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ غالباً آنے والی کسی اہم پریس کانفرنس میں متعلقہ حکام سے یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے اور اگر اس کی نوبت نہ آئی تو پہلے ہی کسی نے بتا دیا تو اچھی بات ہوگی ورنہ سوشل میڈیا سے لے کر اخبارات میں اس پاکستانی پائلٹ کا نام اور تصویریں آ رہی ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھارتی طیارہ گرایا لیکن یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ سرکاری طور پر اس قومی ہیرو کا نام کیوں نہیں لیا جا رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں