جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی نے الگ الگ ملاقات میں وزیراعظم سے وفاقی اور صوبائی کابینہ میں مزید ردوبدل کا مطالبہ کردیا




وزیراعظم عمران خان وفاقی اور صوبائی کابینہ میں مزید ردوبدل پر غور کر رہے ہیں وفاقی کابینہ کے ساتھ ساتھ صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے بعض وزرا کی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں ہیں اس حوالے سے پارٹی کے دو اہم رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین سے الگ الگ ملاقات میں انہوں نے مشاورت بھی کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق عمران خان پارٹی کے اندر اختلافات اور گروپ بندی کے حوالے سے آنے والی اطلاعات پر بھی ناخوش ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے صورتحال کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے وزیراعظم عمران خان خود بھی کہہ چکے ہیں کہ جس وزیر کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہوگی اس کو بدل دیا جائے گا یا اس کو ٹیم سے نکال کر کسی دوسرے پلیر کو شامل کیا جاسکتا ہے وزیراعظم نے وفاقی کابینہ میں پچھلی تبدیلی کے موقع پر واضح کردیا تھا کہ کوئی بھی پورٹ فولیو مستقل نہیں ہے سب کی کارکردگی پر کپتان نظر رکھے گا اور کارکردگی کے مطابق تسلسل رہے گا پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات اور گروپ بندی کی وجہ سے بعض وزراء کو تبدیل کرکے ناراض گروپ کے لوگوں کو وزیر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے پنجاب کابینہ میں کئی لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ خیبرپختونخواہ میں بھی اہم رہنماؤں کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختو پرویز خٹک کے بھائی کو صوبائی کابینہ کا حصہ بنایا جا چکا ہے تاکہ ان کا غصہ اور ناراضگی کم کی جا سکے ذرائع کے مطابق وہ وزارتِ داخلہ حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں پر اعجاز شاہ کو موقع دیا گیا ہے جنہوں نے آتے ہی خبردار کر دیا ہے کہ اگر اپوزیشن نے سڑکیں روکی تو چھترول ہوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں