وزیراعظم عمران خان کو غلط معلومات دینے والے کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟

پاکستان میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو جو آگاہی دی گئی تھی کیا وہ بالکل غلط معلومات پر مبنی تھی؟ آخر وزیراعظم عمران خان کو کس نے بتایا تھا کہ سمندر میں پٹرول کی دریافت کے حوالے سے بہت اہم کامیابی ہوئی ہے اور چند روز میں بہت بڑی خوشخبری قوم کے سامنے آنے والی ہے ۔ پاکستان کے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بات اٹھائی ہے ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو سمندر میں پٹرول کی دریافت کے حوالے سے غلط آگاہ کیا گیا جس کے بعد انہوں نے پٹرول کی دریافت کے حوالے سے قوم سے غلط بیانی کی اب کوئی وزیر اعظم سے پوچھے کہ انہیں غلط معلومات کس نے دی اور جس نے بھی غلط معلومات دیں اس کے خلاف آخر کیا کروں یہ عمل میں لائی گئی یہ سوال تو وزیراعظم سے بنتا ہے ۔


جو لوگ عمران خان کو زمانہ کھیل سے جانتے ہیں اور اس کے بعد جب وہ سیاست میں آئے خصوصاً اپوزیشن کے دور میں جب انہوں نے بہت سے فیصلے کیے ان کو جو معلومات فراہم کی جاتی تھیں ان پر وہ بہت زیادہ تحقیق نہیں کرتے تھے بلکہ اس پر یقین کر لیتے تھے عمران خان کے حامی سمجھتے ہیں کہ عمران خان چونکہ خود سچے اور کھرے انسان ہیں اس لیے وہ سامنے سے بات کرنے والے پر فورن یقین کرلیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سامنے والا جو کہہ رہا ہے وہ سچ ہے حالانکہ کئی مرتبہ ایسا نہیں ہوتا ۔سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کی سامنے والے پر فورن یقین کر لینے کی عادت اب ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے کیونکہ اپوزیشن کے دنوں تک اس طرح کی عادت قابل برداشت تھی لیکن حکومتی سطح پر اس طرح کی عادت انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے لہذا اب ان کے پاس آنے والی معلومات بلکل ٹھوس اور یقینی ہونی چاہیے اور اس کو ناقابل تردید ہونا چاہیے اور اگر وہی اندر غلطیاں اگورا کون معلومات پہنچاتا ہے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہیے اور اس کے خلاف ایسی کارروائی ہونی چاہیے کہ مستقبل میں کسی کو یہ جرات نہ ہو کہ وہ وزیراعظم کو غلط معلومات دیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں