بلوچ مرکزیت کا خاتمہ

عزیز سنگھور
————————
روزنامہ آزادی، کوئٹہ
———————
بلا آخر جنوبی بلوچستان کے قیام کا آغاز ہو ہی گیا۔ گزشتہ کئی عرصے سے بلوچستان میں دو صوبے بنانے کی تیاریوں کی اطلاع چل رہی تھی جس کو حتمی شکل دے دی گئی۔ اس سلسلے میں گوادر کو جنوبی بلوچستان کے دارالحکومت کا درجہ مل گیا۔ حکومت نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے ریسٹ ہاؤس کو سول سیکرٹریٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ حکومت نے سول سیکرٹریٹ کی تزین و آرائش کے لئے کروڑوں روپے مختص کئے ہیں اور اس پر باقاعدہ کام کا آغاز ہوچکا ہے۔
جنوبی بلوچستان کے قیام کے سلسلے میں سرکاری طورپر ہمیشہ اس کی تردید کی گئی۔ جبکہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے بھی جنوبی بلوچستان کے منصوبے کو منافقانہ سوچ کی پیداوار قرار دیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو تقسیم کرنے کی سازشیں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گی ۔ بلوچستان میں ترقی کے نام پر تاریخی علاقوں کو جنوب و شمال کے نام پر تقسیم کرنے کی سوچ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق جنوب و شمال کے نام پر بلوچستان کی تقسیم سے بلوچ قوم کے درمیان رابطے کا خلا پیدا ہوجائیگا۔ جس کے نتائج بڑے گھمبیر ہونگے۔ ان کے درمیان معاشرتی اور سماجی دوریاں پیدا ہونگیں۔ ماضی کی تقسیم ہمارے سامنے ہے۔ جس کی وجہ سے آج پاکستانی بلوچستان کے بلوچ قوم کی ایرانی اور افغانستان کے بلوچوں سے معاشرتی اور سماجی دوریاں پیدا ہوگئیں۔ جس سے وہ سیاسی طورپر کمزور ہو گئے ۔
جنوبی بلوچستان کی انتظامی امور کے قیام سے ایک صوبے میں دو معاشی منڈیاں وجود میں آجا ئیں گی ۔ جنوب اور شمال کے لوگوں کے تاریخی اور خونی رشتے کمزور پڑ جائینگے۔ جس کی وجہ سے ان کی مرکزیت کمزور ہوجائیگی۔ اس مرکزیت کی بنیاد پر ان کی سیاسی و عسکری طاقت پر برے اثرات مرتب ہوں گے ۔ ویسے بھی موجودہ دنیا ایک مادی دنیا ہے۔ جس میں خونی رشتے کمزور پڑ رہے ہیں۔ سارے رشتے کاروبار، جائیداد اور ملکیت سے منسلک ہورہے ہیں۔ معاشرے میں رشتے پیسوں کی بنیاد پر قائم ہورہے ہیں۔ جس کی وجہ سے قومی سوچ کا خاتمہ ہورہا ہے۔ منفی اثرات قوموں کی ثقافت اور زبان پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ جنوبی بلوچستان کے قیام کےمندرجہ بالا اثرات بلوچ معاشرے میں پڑ سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بلوچ کی مرکزیت پارہ پارہ ہوجائیگی۔ وہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہوجائینگے۔
اگر بلوچ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو عالمی طاقتوں نے ماضی میں بھی بلوچ سرزمین کو مختلف ممالک کے درمیان بانٹاتھا۔ آج بلوچ سرزمین آپ کو ایران، پاکستان، اور افغانستان میں ملے گی ۔ تقسیم در تقسیم کی پالیسی کامقصد دراصل بلوچوں کو سیاسی و عسکری طورپر کمزور کرنا تھا۔ ان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کروانا تھا۔۔ بلوچوں کی قومی تشخص کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ ان کی طاقت کو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ بلوچ کمزور سے کمزورتر ہو سکیں اور حکمران ان پر حکمرانی کرتے رہیں۔
ایرانی حکومت نے مغربی بلوچستان کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بلوچستان، سیستان، مکران اور سرحد نامی چار صوبے وجود میں آ جائیں گے۔
مشرقی بلوچستان اور مغربی بلوچستان کی تقسیم کا پلان برطانوی نوآبادیاتی نظام سے مماثلت رکھتا ہے۔ نو آبادیاتی نظام سے مراد کسی ایک علاقے کے لوگوں کا دوسرے علاقے میں جا کر اپنی نئی آبادیاں قائم کرنا اور اردگرد کے علاقوں پر قبضہ کر کے اسے توسیع دینا ہے۔ جہاں یہ نوآبادی قائم کی جاتی ہے وہاں کے اصل باشندوں پر قابض گروہ عموماً اپنے قوانین، معاشرت اور حکومت بھی مسلط کر دیتے ہیں۔
اس وقت پورے بلوچستان کی مقامی آبادی ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ بلوچستان کی ساحلی پٹی سات سو کلومیٹر طویل ہیں۔ یہ پٹی ضلع گوادر اور ضلع لسبیلہ کی حدود میں آتی ہے۔ جہاں سینکڑوں کی تعداد میں رہائشی منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ لوگوں کو یہاں لاکر بسایا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بلوچستان کی موجودہ آبادی سے دوگنی آبادی کو بسانے کا منصوبہ جاری ہے۔
ریئل اسٹیٹ بزنس سے تعلق رکھنے والے افراد گوادر پورٹ کی تعمیر کے دور میں آئے تھے۔ ریئل اسٹیٹ بزنس سے وابستہ افراد کا تعلق اسلام آباد، لاہور، کراچی، فیصل آباد، پنڈی، دبئی سمیت دیگر ممالک سے ہے۔
ضلع گوادر اور ضلع لسبیلہ بھر سےلاکھوں ایکڑ اراضی حاصل کی جارہی ہے۔ یہ اراضی مقامی افراد کی ملکیت ہیں۔ ان کے پاس مالکانہ حقوق بھی موجود ہیں۔ مقامی افراد کی زمینوں کی ملکیت ان کی مرضی اور علم کے بغیر تبدیل کی جارہی ہے اور انہیں ان کی ملکیت سے محروم کیا جارہا ہے۔
لسبیلہ گوادر سے منتخب آزاد رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے حب میں اسپیشل اکنامک زون کے منصوبے کے نام پر لسبیلہ کے علاقے ساکران میں قدیم گوٹھوں کے لوگوں کی بے دخلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صنعتی ترقی نہیں چاہیے۔ حکومت کے کہنے پر لسبیلہ کی ضلعی انتظامیہ ساکران کے قدیمی گوٹھوں کے مکینوں سے ان کی چھت چھین رہے ہیں۔ ساکران سے جن گوٹھوں کو صنعتی ترقی کے نام پر بے دخل کیا جارہا ہے وہ پاکستان بننے سے پہلے سے یہاں آباد ہیں انکو کسی صورت بے دخل کرنے نہیں دینگے۔ بھوتانی کا کہنا تھا کہ حب اور ساکران میں کوئی صنعتی ترقی نہیں ہو ر ہی یہ کچھ لوگ مقامی لوگوں سے سیاسی انتقام لے رہے ہیں اس مسئلے کو عدالت لیجارہے ہیں قانونی طریقہ اپناتے ہوئے قانون کا دروازہ کٹھکٹائیں گے۔ قانون کا ہر راستہ اپنائیں گے اگر کسی نے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو اسکو روکنا جانتے ہیں اپنے حق کے لیے جیل جانا پڑا تو بھی جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق گوادر کے لئے ایک آئینی مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ جس کے تحت ضلع گوادر کی ساحلی پٹی پر ایک نیا شہر بسایا جائےگا۔ ان جدیدہاؤسنگ اسکیمز کے ذریعے غیر مقامی افراد کو بسایا جائےگا۔ اس آئینی مسودے کو ایک چینی فرم اور نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ آئینی مسودے کوگوادر ماسٹر پلان کا نام دیاگیا۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں قومی ترقیاتی کونسل کے اجلاس میں کیاگیا۔ جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی۔ نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایک وفاقی ادارہ ہے۔ یہ سارے انتظامی معاملات وفاقی حکومت براہ راست دیکھ رہی ہے۔ اس طرح کوسٹل ایریا کو وفاق کنٹرول کرےگا۔ بلوچستان حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
دراصل یہ ماسٹر پلان ترقی دینے کے نام پر بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا ایک آئینی و قانونی ہتھیار ہے۔ یہ اقدام قانون سازی کے ذریعے بلوچستان کی سرزمین پر ڈیموگرافک تبدیلی لانے کی کوشش اور بلوچ قومی تشخص کو مٹانے کا ایک منصوبہ ہے۔