پیٹرول کی قیمت کم کرانے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کیوں ناکام ہوئے؟

پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پاکستان کی آنے والی نسلوں پر احسان کرتے ہوئے ڈیم فنڈ تو قائم کر گئے لیکن پیٹرولیم مصنوعات سمیت مہنگائی کا جن بوتل میں بند نہ کر سکے انہوں نے کوشش کی تھی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اس سلسلے میں انہوں نے کیس بھی اٹھایا اتوار کی چھٹی والے دن سماعت بھی کی ۔پہلے چیئرمین پی ایس او پیش ہوئے پھر ایم ڈی کو بلایا ۔سیکرٹری فنانس سیکرٹری پیٹرولیم اور اوگرا کے اعلیٰ حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے ۔باہر سے منگوائے جانے والے خام تیل کی خریداری سے لے کر ریفائنری میں اسکی صفائی اور پھر عام پیٹرول پمپ تک اس کی رسائی اور عوام کو فروخت تک پورے مکانیزم کا جائزہ لیا گیا ۔ایک لیٹر کی خریداری پر کتنی لاگت آتی ہے اور اس پر کتنے ٹیکس لگائے جاتے ہیں اور حکومت کی جیب میں کتنا پیسہ آتا ہے یہ ساری معلومات اکٹھی کی گئیں افسران کو خوب ڈانٹا گیا ڈرایا گیا نئے سرے سے آڈٹ کرانے کی بات کی گئی سارے ریکارڈ کو کھنگالنے کا اعلان ہوا کہا گیا کہ اس میں بہت گڑبڑ ہے دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے تیل کی خریداری میں بہت بڑے بڑے گھپلے ہیں عوام کو بہت زیادہ مہنگا تیز دیا جا رہا ہے اس کی قیمت میں کمی لائی جائے گی پیٹرولیم مارکیٹنگ کمپنیاں اور پیٹرولیم ڈیلرز خوب منافع کما رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔


جو جو یہ کہ اس آگے بڑھتا گیا لوگوں کی توقعات بھی بڑھتی گئی اور لوگ سمجھ رہے تھے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ضرور کم کرانے میں کامیاب ہوں گے اور حکومتی ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں کمی لانے کا اعلان ہوگا لیکن صرف اتنا ہوا کہ جب جب سماعت ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافے کی سمری بھیجی جاتی تھی اسے یاد تو کچھ دنوں کے لیے مؤخر کر دیا جاتا یا جو اضافہ مانگا جاتا تھا اس شرح اضافہ کی بجائے اس سے کم اضافہ کیا جانے لگا ۔جیسے ہی میاں ثاقب نثار ریٹائر ہوئے عوام کو ان سے جو امیدیں تھیں وہ بھی ان کے ساتھ رخصت ہو گئی ۔


اسد عمر جب اپوزیشن میں تھے تو کہتے تھے کہ پیٹرول 90 روپے کا نہیں بلکہ باسٹھ روپے کا ہونا چاہیے ۔ہم حکومت میں آکر سستا کردیں گے لیکن اسد عمر کے دعوے بھی صرف دعوے ہی ثابت ہوئے اور وہ آٹھ مہینے کی حکومت کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی کمی نہ لاسکے اور آج پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں ریکارڈ شرح تک پہنچ چکی ہیں جن میں حکومتی ٹیکسز اسی مناسبت سے موجود ہیں جو سابقہ دور حکومت میں تھے ۔اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ پوزیشن کے دور میں پی ٹی آئی کے لوگوں نے جو باتیں کی تھیں کم ازکم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ان میں کوئی سچائی نظر نہیں آتی اگر وہ باتیں سچی تھی تو پی ٹی آئی کو حکومت میں آنے کے بعد پہلے دن ہی ان باتوں پر عمل کر کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کم کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا ممکن نہیں تھا اس لئے آج بھی قیمتیں کم ہونے کے بجائے مسلسل اوپر کی طرف جا رہی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر عوام کو واقعی ریلیف دینا چاہتی ہے تو سبسڈی بھی دے اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس کو یا تو ختم کردے یا اس میں نمایاں کمی کرے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں