جب وہ لڑکی دلہن بن کر میرے گھر پہنچ گئی اور ہاتھ پکڑ کر کہا مسجد چلو نکاح کرو…

پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر شاہد خان آفریدی کی کتاب گیم چینجر نے کئی اہم واقعات اور حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے شاہد آفریدی نے اپنی نجی زندگی کے حوالے سے بھی کچھ واقعات کا ذکر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ نائٹ کلب گیا اور وہاں ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی کئی گھنٹوں تک بات چیت کرتے رہے اس وقت سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ لڑکی میرے لئے درد سر بن جائے گی اور اس سے جان چھڑانا مشکل ہو جائے گا ۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک مرتبہ نائٹ کلب جانا ہوا اور وہاں ایک لڑکی ملی جس کے ساتھ کئی گھنٹوں تک بات چیت کرتے رہے ۔
کچھ عرصے بعد وہ لڑکی دلہن بن کر میرے گھر پہنچ گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا مسجد چلو اور نکاح کرو ۔بڑی مشکل سے اس لڑکی سے جان چھڑائی۔وہ بالکل پاگل تھی میری زندگی بھی اجیرن بنانا چاہتی تھی ۔
یہ لڑکی دورہ آسٹریلیا کے دوران ایک نائٹ کلب کے دورے کے دوران ملی تھی ۔


شاہد آفریدی اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی کتاب کے سنسنی خیز انکشافات کی وجہ سے کتاب مشہور ہو رہی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی کتاب میں کسی کی بھی کردار کشی نہیں کی میں نے تو جو واقعہ پیش آئے ان کو سادہ انداز میں پیش کردیا ہے ۔
اپنی کتاب میں شاہد خان آفریدی نے 2009 کے حوالے سے ایک انکشاف کیا ہے کہ ایک سینئر بلے باز نے یونس خان کے خلاف بغاوت کر دی تھی باغی کرکٹر نے سب کو اکسایا بعد میں کپتان بھی بنا لیکن ایک میچ بھی نہیں جیت سکا رانا نویدالحسن شعیب ملک اور سعید اجمل نے بھی باغی کرکٹ کا ساتھ دیا شایدآفریدی کا ماننا ہے کہ 2009 میں جو کچھ ہوا غلط تھا غلط ہوا یونس خان کے ساتھ بغاوت کرنے والوں کے ساتھ بھی وہی ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔
شاہد خان آفریدی نے اپنے والد کا ذکر بھی کیا ہے اور ایک واقعہ بھی بتایا ہے کہ ایک دفعہ مارکیٹ کریش ہوئی تو میرے والد کو کافی نقصان ہوا اثرات ماں باپ کو اور تمام رات نماز پڑھتے اور رو رو کر دعائیں مانگتے دیکھا تو بہت تکلیف ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں