۔۔۔اور وہ ڈرتے ہیں ایک نہتی لڑکی سے

محترمہ فاطمہ جناح …محترمہ بیگم رعنا لیاقت علی خان …بیگم نصرت بھٹو …محترمہ بےنظیر بھٹو …بیگم کلثوم نواز …پاکستان کی سیاسی تاریخ کی یہ وہ خواتین ہیں جن کا ذکر پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔اب سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف بھی عملی سیاست کے اس راستے پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں پہلی مرتبہ پاکستان مسلم لیگ نون نے مریم نواز کو کوئی پارٹی عہدہ سونپا ہے ۔مریم نواز کو پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مقرر کیا گیا ہے پارٹی میں بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی گئی ہے پارٹی قیادت نے کئی اہم رہنماوٗں کو اہم عہدے دیے ہیں سب سے اہم عہدہ مریم نواز کی شمولیت کے حوالے سے سامنے آیا ہے اب وہ بطور نائب صدر پارٹی کے امور میں حصہ لیں گی، انہیں نائب صدر مقرر کرنے کی منظوری شہبازشریف نے دی ہے دیگر تبدیلیوں میں مسلم لیگ نون کے 16 نائب صدور مقرر کیے گئے ہیں احسن اقبال کو پارٹی کا جنرل سیکرٹری،شاہد خاقان عباسی کو سینئر نائب صدر ،رانا ثناء اللہ کو مسلم لیگ پنجاب کا صدر،اویس لغاری کو مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکٹری،مریم اورنگزیب کو پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔


عہدے داروں کی تعیناتی پارٹی قائد نواز شریف پارٹی رہنماؤں کی مشاورت سے کی گئی ہے جبکہ مرکزی اور صوبائی سطح پر موجود تنظیموں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سیاسی مبصرین کے مطابق مریم نواز کو نائب صدر مقرر کرنے سے آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نون کی ترجیحات اور پالیسیوں کا اشارہ ملتا ہے فی الحال مریم نواز اپنے والد کی طرح مصلحتاً خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں سیاست کے میدان میں ان کا جو اصولی موقف اب تک سامنے آیا ہے وہ ایک باغی سیاستدان کا ہے ان کے اپنے اصول ہیں اپنے نظریات ہیں وہ ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مستحکم اور ملک میں قانون کی بالادستی چاہتی ہیں عوام کی رائے کی اہمیت اور سیاسی قیادت کو بااختیار دیکھنا چاہتی ہیں آئین اور قانون توڑنے والوں کو سزا دلانا چاہتی ہیں اب تک انہوں نے اپنے والد کے زیر سایہ سیاست کی ہے اس دوران انہیں سخت مشکلات کا سامنا رہا ہے دو مرتبہ ان کے والد کو ان کے سامنے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد جیل جانا پڑا ایک مرتبہ وہ خود بھی والد کے ساتھ جیل جا چکی ہے وہ ان سیاستدانوں میں شامل ہوچکی ہیں جنہوں نے گرفتاری سے خوف نہیں کھایا بلکہ گرفتار ہونے کے لئے خود بیرون ملک سے پرواز کرکے پاکستان پہنچی اور گرفتاری دیں اور جیل کاٹی ۔اس دوران ان کی والدہ بیگم کلثوم نواز شدید علالت کے بعد انتقال فرما گئیں جس کا غم اور صدمہ انہیں برداشت کرنا پڑا اب وہ اپنے والد کی ہمت بنانے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ان کے ساتھ رہتی ہیں نواز شریف کی سیاست میں واحد دلچسپی مریم نواز کا سیاسی کیریئر بتایا جاتا ہے مریم سوشل میڈیا پر اپنے والد کی آواز ہے اور ان کا کارکنوں کے نام یہی پیغام آتا رہتا ہے کہ کارکن مایوس نہ ہوں افواہوں پر کان نہ دھریں ان کے قائد کبھی انہیں مایوس نہیں کریں گے اور ہمیشہ پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند رکھتے آئے ہیں آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے ۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف کو جہاں اپنے سیاسی کیریئر میں بہت سے نشیب و فراز دیکھنے کا جلد موقع مل گیا ہے اور ان کے پاس جہاں بہت سے سیاسی ایڈوانٹیج رہے ہیں وہاں ان کے لیے کافی مشکلات اور مسائل ابھی تک موجود ہیں ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کی طرح پاکستان کی قدآور سیاسی لیڈر بن سکیں گی لیکن ان میں سیاست کے جراثیم موجود ہیں وہ پراعتماد ہیں از ہی نہیں قابل ہیں باہمت ہیں حالات کا مقابلہ کرنا جانتی ہیں سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں سازشی عناصر کو پہچانتی ہیں اپنے خاندان اور اپنی پارٹی اور ریاست کو درپیش مشکلات مسائل اور چیلنجوں کا ادراک رکھتی ہیں وائٹ ہاؤس میں امریکی خاتون اول مشعل اوباما سے لے کر پاکستان میں آنے والے مختلف سربراہان مملکت اہل خانہ کے ساتھ انھوں نے جو وقت گزارا اس پر عالمی شخصیات نے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا خود سابق وزیراعظم نوازشریف اپنی صاحبزادی پر سیاسی سمجھ بوجھ کے حوالے سے بے حد اعتبار اور اعتماد کرتے ہیں اور انہیں اس بات کا بہت دکھ ہے کے سیاسی مخالفین اور ان کی حکومت مخالف قوتوں نے ان کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹی کو مقدمہ بازی اور جیل میں ڈال کر بہت ناانصافی کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں