نہر خیام میں کشتیاں چلانے کا فیصلہ وزیراعلی سندھ نے صفائی کا حکم دے دیا

کراچی  – وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فیصلہ کیا ہے کہ نجی شعبے کی مدد اور تعاون سے شہر کے اہم مقامات کو خوبصورت اور ترقی دی جائے ۔ پہلے مرحلہ میں نہرخیام، کلفٹن اور بوٹ بیسن کے درمیان نالے کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ ٹاسک نامور آرکیٹکٹ شاہد عبداللہ اور انکی ٹیم جوکہ جمیل یوسف اور شہزاد رائے پر مشتمل ہے، جنھوں نے آج خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی، کو دیا گیا ہے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ اور اسپیشل سیکریٹری برائے بلدیات نیاز سومرو نے شرکت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مین کلفٹن روڈ اور بوٹ بیسن کے درمیان نالہ ، نہر خیام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دی جائے گی ۔ شہید بینظیر پارک میں نالے پر ٹریٹمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا جوکہ نالے میں پانی جانے سے قبل سیوریج کے پانی کی ٹریٹمنٹ کرے گا۔ بوٹ بیسن سے سمندر کی جانب سے جانے والا پانی کا بہاؤ صاف ستھرا اور کسی بھی قسم کی بو سے پاک ہوگا۔


منصوبے کے مطابق نہرخیام میں ایک کلومیٹر کے اندر وزیٹرس کے لیے بوٹ بیسن تا کلفٹن روڈ بوٹس چلیں گی اور وہاں پر ایک پارک، واکنگ ٹریک، بینچز، کافی، چائے اور دیگر کھانے پینے کے اشیاء نالے کے اطراف میں دستیاب ہونگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یہ ٹاسک آرکیٹکٹ شاہد عبداللہ کو دیا جوکہ نجی شعبے کے تعاون سے علاقے کو ترقی دیں گے۔ اگلے مرحلے میں نالے کے دیگر حصوں اور شہر میں دیگر مقامات کو ترقی دی جائے گی۔ ایک اور پلان جس میں اجلاس میں غور کیا گیا وہ شاہراہ فیصل جناح ٹرمنل تا میٹروپول کو خوبصورت بنانے کے بارے میں تھا ۔ اس منصوبے کے تحت روڈ (شاہراہ فیصل) کے دونوں اطراف کے ساتھ تعمیر عمارتوں پر معمولی فرق کے ساتھ کلر تھیم کیا جائے گا۔ اس منصوبے پر بھی نجی شعبے کے تعاون سے عملدرآمد ہوگا اور یہ ٹاسک بھی ایک بار پھر شاہد عبداللہ کو دیا گیا کہ وہ آرکیٹکس ، ڈونرز اور ماہر ماحولیات کو لائیں اور انکے ساتھ مل کر ایک تفصیلی پلان منظوری اور عملدرآمد کے لیے ترتیب دیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں