مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے خلاف مشرف دور کے ایکشن ری پلے کی تیاریاں

جس طرح سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ قاف اور پیپلز پارٹی پیٹریاٹ بنانے کے لیے اس وقت کے خفیہ ہاتھوں کو استعمال کرتے ہوئے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں بغاوت کرائی گئی تھی بالکل اسی طرح اب عمران خان کے دور میں دونوں مخالف سیاسی بڑی جماعتوں کے اندر نہیں بغاوت کرانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اہم حکومتی شخصیات کا دعوی ہے کہ شریف خاندان اور آصف زرداری کی بڑھتی ہوئی مشکلات کی وجہ سے ان کی پارٹی کے اپنے لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے اور پارٹی چھوڑنے کے لیے حکومت سے رابطے کر رہے ہیں اگر شریف برادران بیرون ملک منتقل ہوگئے اور آصف زرداری کو جیل ہوگئی تو پھر دونوں بڑی پارٹیوں میں بڑے پیمانے پر لوگ پارٹی چھوڑ جائیں گے حکومتی شخصیات کا دعوی ہے کہ بڑے بڑے نام ان سیاسی جماعتوں کو خیرباد کہنے کی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں اب صرف حتمی فیصلوں کا انتظار کیا جارہا ہے بجٹ سے پہلے یا بجٹ کے بعد ۔شہباز شریف پہلے ہی لندن جا چکے ہیں نواز شریف کی تیاریاں بھی بیرون ملک جانے کے لیے مکمل ہیں اور آصف زرداری کے خلاف جاری مقدمات بھی منطقی انجام کی طرف بڑھانے کے لئے نئے پوری کوشش کر رہا ہے ۔نیب کی کوشش ہے کے واسطے زرداری اور شہباز شریف کو زیادہ مہلت نہ دی جائے اور ان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے ۔شہباز شریف صورتحال باپ کر بیرون ملک جا بیٹھے ہیں اور وطن واپسی میں تاخیر کر رہے ہیں ہبۃ آصف زرداری ملک میں رہ کر ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں ماضی میں انہوں نے مضبوطی سے جیل کاٹی تھی لیکن اب ان کی جسمانی صورتحال ماضی کے مقابلے میں کمزور ہوچکی ہے۔


ماضی میں جنہیں کرداروں نے پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی میں دراڑیں ڈالی تھی اور ان کے لوگوں کو بغاوت پر اکسایا تھا ان میں سے کچھ کردار موجودہ حکومت کے لیے اپنی خدمات وقف کر چکے ہیں اور سرگرمی عمل بتائے جاتے ہیں ۔یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں ہی پیپلز پارٹی میں بغاوت ہوئی تھی اور اس وقت فیصل صالح حیات راؤ سکندر سمیت متعدد اہم رہنما پیپلزپارٹی سے الگ ہوکر اپنا گروپ بنا کر سیاست کرنے لگے تھے اس سے پہلے آفتاب شیرپاؤ بھی الگ ہوچکے تھے مسلم لیگ نون میں دراڑیں ڈال کر مسلم لیگ کا بنائی گئی تھی اس وقت میاں اظہر نمایاں تھے لیکن ان کے پیچھے اصل قوت خفیہ ہاتھوں کی تھی جنہوں نے بعد میں مسلم لیگ قاف کی پوری پارٹی کو چودھری شجاعت کی گود میں ڈال دیا اور پھر چودھری شجاعت نگران وزیراعظم بھی بنے۔


سیاسی مبصرین کے مطابق آج صورتحال ایک مرتبہ پھر اس دورے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے اندر بغاوت کا امکان ہے اگر ان کی قیادت کے چلی جاتی ہے یا بیرون ملک کی جاتی ہے تو بہت سے پارٹی رہنما یا تو خاموش ہو کر گھر بیٹھ جائیں گے یا پارٹی کو خیرباد کہہ دیں گے ۔اس صورتحال میں پیپلزپارٹی کے پاس بلاول بھٹو کی قوت ہوگی جبکہ مسلم لیگ نون کے پاس بظاہر کوئی ایسی نوجوان قیادت نظر نہیں آرہی جو پارٹی کو یکجا رکھے کیونکہ نواز شریف و شہباز شریف اگر مشکل وقت میں آتے ہیں تو ان کے ساتھ ساتھ مریم نواز کو بھی بیرون ملک یا خاموش سیاست کرنی پڑے گی حمزہ شہباز پہلے ہی حکومت کے ریڈار میں آ چکے ہیں پنجاب اور سندھ میں نئی دھڑے بندی کے لیے کام جاری ہے دونوں صوبوں میں گزرے اللہ کی کرسی کا لالچ تین شخصیات کو دیا جا چکا ہے سیاسی مبصرین کے مطابق دیکھنا یہ ہے کہ شریف خاندان اور آصف زرداری اپنی جماعتوں کو مزید توڑپھوڑ سے کس طرح بچاتے ہیں کیا حکمت عملی وضع کرتے ہیں اور اپنی جماعتوں کے اوپر ہونے والے مضبوط حملوں کو کس طرح ناکام بناتے ہیں ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں