پارٹی پر نواز شریف اور مریم کا کنٹرول بحال ۔ شہباز شریف سے اہم عہدے واپس کیوں لئے گئے؟

  مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور عہدے داروں میں بڑھتی ہوئی بے چینی پر قابو پانے کے لیے نواز شریف اور مریم نے پارٹی پر اپنا کنٹرول بحال کرلیا ہے اور شہباز شریف سے اہم عہدے واپس لے لیے گئے ہیں بظاہر شہباز شریف نے جو عہدے خالی کیے وہ انکی صحت کو بنیاد بناکر خالی کیے گئے ہیں لیکن پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی میں بڑھتی ہوئی بے چینی سے نواز شریف اور مریم پریشان تھے وہ خود بول بھی نہیں سکتے انہوں نے چپ کر روزہ رکھا ہوا ہے اور ان کی خاموشی کے دوران پارٹی کے اندر بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ان حالات میں شہبازشریف سے کچھ عہدے واپس لے کر شعلہ بیاں خواجہ آصف کو آگے کیا گیا ہے اور پارلیمانی لیڈر بنانے کی منظوری دی گئی ہے جب کہ رانا تنویر کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنوایا گیا ہے یہ فیصلے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے مشاورت کے بعد شہباز شریف

نے کیے ہیں شہبازشریف کی جانب سے اہم عہدے خالی کئے جانے پر یہ کا سر بھی امراءکے شاید وہ برطانیہ میں ہی رہنا چاہتے ہیں اور فوری طور پر واپسی کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ شہباز شریف رمضان کے آخر میں وطن واپس آجائیں گے یہ تاثر درست نہیں ہے کہ وہ ہماری طویل عرصہ کے ہم کریں گے محمد زبیر بھائی یہ بھی کہنا ہے کہ شہباز شریف سے ہوتے ان کی صحت دیکھ کر واپس لیے گئے ہیں یہ باتیں انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف لندن میں اپنے مستقبل کے لیے راہیں تلاش کر رہے ہیں اور سیاسی رابطوں میں ہیں اور وہ نواز شریف کی عدالت سے بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق فیصلے کا انتظار بھی کر رہے ہیں تاکہ اگر نواز شریف کو اجازت ملتی ہے تو وہ لندن میں ہی رک کر نوازشریف سے ملاقات کریں اور پھر وہاں سے اسی مشاورت آگے بڑھائی جائے نواز شریف کی لندن میں استقبال کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں بظاہر وہ علاج کے لئے لندن جائیں گے اور وہاں اپنا کیام خاموشی سے اور میڈیا سے دور رہ کر کریں گے ۔پارٹی کے اندر یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ اہم معاملات سے نواز شریف اور مریم نے خود کو الگ کرلیا ہے اور پارٹی پر مکمل کنٹرول شہبازشریف اور حمزہ کا آگیا ہے اور اب کوئی نواشریف کا نام بھی نہیں لیتا نوازشریف کی بات بھی نہیں کرتا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی یہ باتیں ہوئیں اور کئی اہم رہنماؤں نے یہ شکایات بھی گی کہ پتہ نہیں چل رہا کہ پارٹی کی پالیسی کیا ہے اور نواز شریف کا کوئی نام کیوں نہیں لے رہا اور حکومت پر کوئی دباؤ کیوں نہیں بڑھایا جارہا ہے ۔


پارٹی میں اس صورتحال میں یہ حل نکالا کہ شہباز شریف سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور پارلیمانی لیڈر کے عہدے واپس لے کر خواجہ آصف کو فالوآن لیڈر اور رانا تنویر کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنا دیا ہے رانا تنویر ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں وزیراعظم عمران خان اور دیگر جماعتوں کے معاملات کو بہتر انداز سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں البتہ پارلیمانی لیڈر کے طور پر خواجہ آصف جیسا گھن گرج والا سیاستدان چاہیے تھا جو ببانگ دہل حکومت کو للکار سکے اور امتی وزراء کو دباؤ میں لا سکے اور اپنی جوشیلی اور طنزیہ جملے بازی سے ایوان کو گرما سکے ۔ماضی میں بھی خواجہ آصف نے عمران خان اور انکی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو بہت سخت وقت دیا تھا جب دھرنا ختم کرنے کے قافیہ سے باہر عمران خان ان کی پارٹی کے لوگوں میں اسمبلی میں واپس آئے تھے تو خواجہ آصف کی وہ تقریر بہت مشہور ہوئی تھی جس میں انہوں نے اس کا کیا پوزیشن کو للکارتے ہوئے کہا تھا اب ایک دوسرے کی شکلیں کہ دیکھتے ہو کچھ شرم کرو کچھ حیا کرو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں