پاکستان میں صحافت کا معاشی طور پرگلا گھونٹا جارہا ہے: حافظ حسین احمد

معاشی طور پر صحافت کو مفلوج کرکے اس پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ مرضی سے خبر چھپوائی اور چھپائی جاسکے
ماضی میں مارشل لاء کے ادوار میں صحافت پر قدغن لگائی جاتی تھی پہلی بار جمہوریت کے نام پر صحافت کا گھیرا تنگ کیا گیا ہے
صحافی دو منہ کی تلوار کی زد میں ہیں اگر وہ خبر چھاپتے ہیں تو ریاستی ادارے ان کو نشانہ بناتے ہیں اور اگر خبر کو روکتے ہیں تو دیگر عناصر ان کو نشانہ بناتے ہیں
بلوچستان میں خبر لگالنے اور نہ لگانے کی بنیاد پر صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے: صحافت کے عالمی دن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

کوئٹہ-  جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحافت کا معاشی طور پر گلا گھونٹا جارہا ہے، ماضی میں مارشل لاء کے ادوار میں صحافت پر قدغن لگائی جاتی تھی مگرپہلی بار جمہوریت کے نام پر صحافت کا گھیرا تنگ کیا گیا ہے، بلوچستان میں خبر لگالنے اور نہ لگانے کی بنیاد پر صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافت کے عالمی دن کے حوالے سے اپنی رہائش گاہ جامع مطلع العلوم بروری روڈ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ ماضی میں مارشل لاء اور دیگر حوالوں سے صحافت پر قدغن لگائی گئی تھی مگر اب پہلی بار بظاہر سول حکومت ہے پارلیمنٹ موجود ہے مگر صحافت کا گھیرا تنگ کیا گیا ہے موجودہ دور میں آزادی صحافت کو جس انداز میں قید کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کی مثال مارشل لاء حکومتوں میں بھی نظر نہیں آتی، انہوں نے کہا کہ میڈیا اس وقت ایک صنعت بن چکا ہے اس لیے صنعتی طور پر اس کو ڈیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، صحافت کا معاشی طور پر گھیرا تنگ کیا گیا ہے اور معاشی طور پر صحافت کو مفلوج کرکے اس پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ حکمران اپنی مرضی سے جو خبر چھپوا اور چھپا سکیں،


انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے لیے صحافیوں کا اہم کردار رہا ہے آزادی صحافت اور جمہوریت کے لیے صحافیوں نے قید و بندکی صعبتیں برداشت کیں ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ نو ماہی حکومت میں خصوصاً اخبارات اور عمومی طور پر دیگر میڈیا کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اگر صحافی کچھ چیزوں میں احتیاط کریں تو بھی ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بلوچستان میں اگر کوئی صحافی احتیاط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اگلے دن اس کو دھمکی ملتی ہے اور بعد میں اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے کئی صحافی اس لیے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کہ ان کی خبر کیوں نہیں چھاپی گئی، انہوں نے کہا کہ صحافی دو منہ کی تلوار کی زد میں ہیں اگر وہ خبر چھاپتے ہیں تو ریاستی ادارے ان کو نشانہ بناتے ہیں اور اگر خبر کو روکتے ہیں تو دیگر عناصر ان کو نشانہ بناتے ہیں، بلوچستان میں صحافیوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں