ممکنہ سیلاب کے پیش نظر دریائے سندھ کے کمزور پشتوں پر نظر رکھنے کا فیصلہ

آخری سرے کے کسانوں تک پانی پہنچانا اولین ترجیح میں شامل ہے، سینئر صوبائی وزیر آبپاشی سندھ
بہت جلد چھوٹے ڈیمز کی تعمیر مکمل کرواکر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے انکا افتتاح کرایا جائے گا، سید ناصر حسین شاہ
پانی کی تقسیم میں کسی بھی کاشتکار کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے، سینئر صوبائی وزیر آبپاشی سندھ
پانی تقسیم کرنے کے شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے، سید ناصر حسین شاہ
ممکنہ سیلاب کے پیش نظر دریا کے کمزور پشتوں پر خصوصی نظر رکھی جائے، سینئر صوبائی وزیر آبپاشی

کراچی –  سینئر صوبائی وزیر برائے آبپاشی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ آبپاشی نظام کو پائیدار اور جدید اصلاحات سے پانی کے تقسیمی نظام کو بہتر بنانے اور پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کرکے ان کسانوں تک جو آبپاشی کے نظام کے آخری سرے پر رہتے ہیں ان کو پانی کی بہتری فراہمی اور اقدامات صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ بہت جلد چھوٹے ڈیمز کی تعمیر مکمل کرواکر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے انکا افتتاح کرایا جائے گا۔ انھوں نے یہ بات آج اپنے دفتر میں ہونے والے محکمہ کا اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی اشفاق میمن، سیکرٹری آبپاشی جمال مصطفی سید، سیکریٹری (ٹیکنیکل) محمد اسلم انصاری، ایڈیشنل سیکریٹری غلام علی برھامانی کے علاوہ مختلف چیف انجینئرزو پروجیکٹ ڈاریکٹرز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔


اجلاس میں مکمل ہونے والے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے سینئر وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔سینئر صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے ایک اعلٰی سطح اجلاس کے دوران سندھ کی زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے چھوٹے ڈیمز پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد تعمیراتی کام مکمل کریں تاکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے نہر کے آخری سروں والے آبادگارو کاشتکاروں تک ہرممکن پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انھوں نے افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تمام جاری منصوبوں کو وقت مقررہ پر مکمل کیا جا ئے اورمنصوبوں میں معیار اور شفافیت کا خاص خیال رکھا جائے۔ انھوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ برسات و دیگر ذرائع سے آنے والے پانی کو سمندر میں ضائع ہونے کے بجائے استعمال میں لانے کے اقدامات کیے جائیں اورپانی کی قلت کے شکار آبادگارو کاشتکاروں تک پانی پہنچانے کے انتظامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں۔ انھوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل اور التواء کا شکار منصوبوں کی فہرست مجھے فراہم کی جائے اور ساتھ میں وفاق کے ذمے واجب الادا منصوبوں کی رقم کی تفصیل بھی تیار کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں جاری رقم کو وقت مقرر پر خرچ کیا جائے۔ انھوں نے افسران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں میرٹ کا خاص خیال رکھا جائے اور قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ اجلاس میں انھوں نے افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فلڈ مینجمنٹ کے حوالے سے تیاریاں مکمل رکھی جائیں، فلڈ کے حوالے سے پیشگی تیاریاں و انتظامات مکمل ہونی چاہیں۔ انھوں نے کہا کہ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر دریا کے کمزور پشتوں پر خصوصی نظر رکھی جائے جبکہ سیم اور تھور میں کمی اور قلت والے علاقوں میں پانی کی لائننگ سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں کسی بھی قسم کی تاخیر نہ برتی جائے۔ سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ پانی کی قلت والے علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں، آر بی او ڈی، ایل بی او ڈی پر خاص توجہ دی جائے اور جاری کام جلد مکمل کیے جائیں۔
اجلاس میں وزیر آبپاشی نے افسران کو درپیش مسائل سے متعلق بھی تفصیلی غور سے سنا، اور انھوں نے افسران کو یقین دہانی کرائی کہ افسران عوام کے مسائل حل کریں، میں افسران کے مسائل حل کروں گا۔ ترقی کے منتظر افسران کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔


سینئر وزیر آبپاشی سندھ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی میں جلد ہی میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں گی،بھرتیوں میں عوام کا احساس محرومی دور کرنے کے لیے مقامی افراد کو ترجیح دی جائے گی تاکہ سندھ کے غریب اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو روزگار میسر ہوسکے۔ انھوں نے افسران کو ہدایت کی کہ محکمہ آبپاشی میں بھرتیوں کے موقع پر میرٹ اور شفافیت کا خاص خیال رکھا جائے اوربھرتیوں میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ برسات و سمندر میں جانے والے صاف پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے میں چھوٹے ڈیم ناگزیر ہیں، چھوٹے ڈیم پانی کی کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کریں، صوبے اور عوام کی بہتری کے کاموں میں کسی بھی قسم کا دباؤ یا سفارش قبول نہ کی جائے، اگر کوئی قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے تو ان سے سختی سے نمٹا جائے،افسران کی مدد کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر وقت تیار ہیں، میں چاہتا ہوں کہ عوام کی بھلائی کے منصوبوں کو بلاتاخیر مکمل کیا جائے۔
سینئر وزیر نے افسران کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی تقسیم میں کسی بھی کاشتکار کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے اورپانی تقسیم کرنے کے شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ سینئر وزیر آبپاشی نے کہا کہ نہر کی آخری سرے والے علاقوں کے عوام کو پینے کے پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ اہم ریگیولیٹرز پر رینجرز کی چوکیاں قائم کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں