پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اورپیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما میاں رضا ربانی کےدرمیان تعلقات تاحال معمول پرنہیں آسکے

کراچی  ﴿رپورٹ امین شاہ﴾ سابق صدر آصف علی زرداری اورپیپلزپارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی کےدرمیان تعلقات تاحال سرد مہری کا شکارہیں،پیپلزپارٹی کے سابق سیکریٹری جنرل میاں رضاربانی پیپلزپارٹی کے مرکزی پروگرامز میں سائیڈ لائن کردیے گئے،پارٹی پالیسی پرتحفظات کے بعد غیرفعال کیے جانے والے میاں رضاربانی کے لیے کہا گیا تھا کہ محنت کشوں کے حقوق کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی سربراہی کریں گے،محنت کشوں کے نام پرہونے والے لانڈھی جلسے میں رضاربانی کی عدم موجودگی پر پی پی قیادت پردباؤ اورکارکنان کی بے یقینی میں اضافہ ہونے لگا۔پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اورپیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما میاں رضا ربانی کےدرمیان تعلقات تاحال معمول پرنہیں آسکے ہیں اوربدستورسرد مہری کا شکار ہیں ۔ آصف علی زرداری کی طرف سے رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے سے انکارکے بعد سے شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری اورسینئررہنماء رضاربانی کے درمیان پیدا ہونےوالی دوریاں بدستور برقرار ہیں جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے سابق سیکریٹری جنرل میاں رضاربانی پیپلزپارٹی کے مرکزی پروگرامز میں سائیڈ لائن کردیے گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سابق سیکریٹری جنرل میاں رضاربانی اورپیپلزپارٹی کی قیادت کے مابین رضاربانی کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کو ٹوئٹ کر کے جواب دینے کا عمل اختلافات کی وجہ بنا پارٹی لائن کے برعکس امریکی صدرکوکیے جانے والے ٹوئیٹ کے بعد پارٹی پالیسی پربڑھتے ہوئے اختلافات بھی دونوں رہنماؤں کے مابین دوریوں کا باعث بن گئے۔


پیپلزپارٹی کے حلقوں کے مطابق لیبرڈے پرکراچی کے علاقے لانڈھی میں ہونے والے پیپلزپارٹی کے مرکزی جلسے میں محنت کشوں کی جانب سے میاں رضاربانی کی عدم موجودگی کومحسوس کرتے ہوئے پارٹی قیادت سے ان کی عدم موجودگی پراستفسارکیا گیا ہے قبل ازیں پیپلزپارٹی کے مرکزی انتخابات میں میاں رضاربانی کوکلیدی عہدہ نہ دیے جانے اورانہیں دوسری بارچیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد نہ کیے جانے پرپارٹی قیادت کی جانب سے موقف اختیارکیا گیا تھا کہ میاں رضاربانی کوپارٹی قیادت محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تحریک کی سربراہی سونپنا چاہتی ہے۔پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق میاں رضاربانی گذشتہ ڈیڑھ برس سے پیپلزپارٹی کے مرکزی اجلاسوں اورکراچی میں ہونے والے محنت کشوں کے جلسے سمیت پیپلزپارٹی کی مرکزی تقریبات سے غیرحاضرہیں یا سائیڈ لائن کردیے گئے ہیں۔پیپلزپارٹی کے بعض سینئررہنماؤں نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا ہے کہ میاں رضاربانی کو نظراندازکیے جانے کی ایک وجہ رضاربانی کا محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں آصف علی زرداری کے مخالف کیمپ میں رہنا بھی ہے۔اس سلسلہ میں پیپلزپارٹی سندھ سے مذکورہ معاملے پر رابطہ کرنے پر ان کی جانب سے کسی قسم کے تبصرے سے انکارکیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں