پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کچی آبادیوں میں کم لاگت کے مکان اور فلیٹس تعمیر کئے جائیں. وزیر بلدیات

کراچی- وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں ان تمام کچی آبادیوں کو ریگولائیز کیا جائے جو ایکٹ کے تحت ریگولائیز کرنی ہیں۔ چائناکی طرز پر صوبہ سندھ میں بھی ماڈل کچی آبادیاں بنائی جائیں اور وہاں تعلیم، صحت سمیت تمام سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کچی آبادیوں میں کم لاگت کے مکان اور فلیٹس تعمیر کئے جائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جاسکے۔ سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس کی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدات بنائیں جائیں جبکہ اس اتھارٹی کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے تمام اقدامات کو بروئے کار لایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ کچی آبادی اتھارٹی کی گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں گورننگ باڈی کے ممبران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ خالد حیدر شاہ، سیکرٹری کچی آبادی احمد بخش ناریجو، ڈی جی کچی آبادی فاروق لغاری، ایم پی ایز و ارکان گورننگ باڈی لیاقت آسکانی، نوید انتھونی، مئیر سکھر ارسلان شیخ، ایڈیشنل کمشنرز کراچی، سکھر، نوابشاہ، شہید بینظیر آباد سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں گذشتہ گورننگ باڈی کی منٹس کی منظوری دی گئی جبکہ ایجنڈے میں موجود بجٹ 2018-19 کو ریوائس جبکہ 2019-20 کی منظوری دی گئی تاکہ اسے کابینہ سے منظور کرایا جائے۔


اجلاس میں کچی آبادی کے ملازمین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ایجنڈے پر اس پات پر اتفاق کیا گیا کہ اتھارٹی کے ملازمین کا ہیلتھ انشورنس کرایا جائے اور انہیں ہیلتھ کارڈ جاری کیا جائے جبکہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ این آئی سی وی ڈی، این آئی وی ڈی، ایس آئی یوٹی، انڈس اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں کے ساتھ ایک ایم یو این کیا جائے اور اس معاہدے کے تحت اتھارٹی کے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو صحت کی سہولیات کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں اتھارٹی کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور اس کے رونیو کو بڑھانے اور ہر سال سندھ حکومت سے گرانٹ کی بجائے اتھارٹی کو مالی طور پر مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر و چیئرمین سندھ کچی آبادی اتھارٹی سعید غنی کو بتایا گیا کہ حیدرآباد میں آٹو بھان روڈ پر اتھارٹی کے ایک ہزار گز کے پلاٹ پر تعمیرات کو کرایہ پر دیا گیا ہے اور یہ 2001 سے کرایہ پر جگہ دی گئی ہے جبکہ حیدرآباد میں ہی کچی آبادی کا دفتر کرایہ پر حاصل کیا گیا ہے، جس کا کرایہ مذکورہ جگہ کے مقابلے دگنا ہے۔ وزیر بلدیات نے ہدایات دی کہ فوری طور پر اس جگہ کو کرایہ دار سے خالی کراکر وہاں ایک عمارت تعمیر کی جائے اور اس کے ایک فلور کو اتھارٹی کے دفتر جبکہ باقی مانندہ فلورز کو کرایہ پر دیا جائے اور کمرشل پلاٹ ہونے کی وجہ سے وہاں گراؤنڈ فلور پر بھی دکانیں بنا کر انہیں کرایہ پر دیا جائے، جس سے ایک جانب اتھارٹی کو کرایہ ادا کرنے سے چھٹکارا حاصل ہوگا تو دوسری جانب سے کے سالانہ رونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔



صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ اتھارٹی نے ملازمین کے پروویڈینٹ فنڈز اور گریجویٹی کی رقم کو نیشنل سیونگ میں انویسٹ کیا ہے، جس سے سالانہ منافع کم آرہا ہے، جس پر صوبائی وزیر نے ہدایات دی کہ فوری طور پر کمرشل بینکوں سے سرمایہ کاری اور اس پر منافع کے حوالے سے بات کرکے اس رقم کو ان بینکوں میں منتقل کیا جائے تاکہ شرح منافع میں اضافہ ہوسکے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر نے سیکرٹری اتھارٹی اور ڈی جی اتھارٹی کو ہدایات دی کہ صوبے بھر میں ایکٹ کے تحت آنے والی تمام کچی آبادیوں کو جلد سے جلد ریگولائیز کیا جائے اور ان آبادیوں میں تعلیم، صحت سمیت تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ چائنا کی طرز پر صوبے میں ماڈل کچی آبادیاں بنائی جائیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ان کچی آبادیوں میں چھوٹے مکان اور فلیٹس تعمیر کئے جائیں اور یہاں بھی تمام سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں کچی آبادیوں میں ملازمین کی بھرتیوں کو اتھارٹی کے مالی طور پر مستحکم ہونے سے مشروط کیا گیااور فیصلہ کیا گیا کہ تمام افسران اور ملازمین مل جل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ اتھارٹی کو جلد سے جلد مالی طور پر مستحکم کرکے اسے اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے گا۔



اپنا تبصرہ بھیجیں