صحافیوں کا کام بولنا ہے بولنے پر کیسے پابندی لگ سکتی ہے۔ سینیٹر مشاہد اللہ

پریس کلب کی تقریب سے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سینیٹر مشاہد اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بنیادی ستون میڈیا ہے۔اس ستون کے بغیر دنیا آگے نہیں بڑھ سکتی۔صحافیوں کا کام بولنا ہے بولنے پر کیسے پابندی لگ سکتی ہے۔ سچ بولنے کے بعد اس قیمت ادا کرنا مشکل ہے۔شہید بے نظیر کو پتہ تھا کہ وہ جو سچ بول رہی ہیں اس کی قیمت ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔وگر نہ وہ کبھی پاکستان نہیں آتی ۔جو آپ کا روزگار چھین رہے ہیں وہ تاریخ میں نیست و نابود ہوں گے۔صحافیوں پر ظلم تو کر سکتے ہو لیکن انھیں شکست نہیں دے سکتے۔ہر پارٹی میں غلط لوگ ہوسکتے ہیں لیکن اجتماع غلط نہیں ہوسکتا۔بندوق کی قسمت میں ہمیشہ شکست ہی ہے۔صدارتی نظام نے اس ملک کو دو لخت کردیا۔انھیں یہ اندازہ نہیں کے اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے سے کیا ہوسکتا ہے۔کوئی جمہوری پارٹی اس عمل کو پسند نہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں