عالمی یوم صحافت اور پاکستان میں قتل کیے گئے 72 صحافی

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عالمی یوم صحافت کی مناسبت سے مختلف تقاریب اور پروگرام منعقد کئے گئے ہیں جن میں صحافیوں کو درپیش خطرات مسائل اور ان کے ساتھ ہونے والے واقعات کا احاطہ کیا جا رہا ہے ایسے میں ان صحافیوں کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے صحافت کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کی ۔ایک رپورٹ کے مطابق صرف گذشتہ 17 برسوں میں پاکستان میں بہ72 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان کی بازی ہارگئے اور ان میں سے 48 ایسے صحافی شامل ہیں جنہیں جان بوجھ کر نشانہ بناکر قتل کیا گیا یعنی ان کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی یوں تو ہر جان قیمتی ہے اور صحافیوں کے ساتھ ساتھ عام انسان جو بھی اس طرح کے واقعات میں نشانہ بنتے ہیں ان سب کے لواحقین چاہتے ہیں جن کے ساتھ انصاف ہو انہیں انصاف ملے اور جو کوئی بھی ان کے پیاروں کی جان لینے میں ملوث ہیں اس کا ذمہ دار ہے.


اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرکے سخت ترین سزا دی جائے ۔صحافیوں میں جو سب سے زیادہ مشہور کیسے سامنے آئے ان میں ولی خان بابر اور حیات اللہ کے نام نمایاں ہیں حیات اللہ کو سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا ان کی لاش 2006 میں شمالی وزیرستان کے علاقے میں راولی کے قریب ایک گاؤں سے ملی تھی جہازوں نے ایک سال قبل اغوا کیا گیا تھا ولی خان بابر کو جنوری 2011 میں اپنے کام سے گھر جاتے ہوئے راستے میں نشانہ بنایا گیا تھا 29سالہ ولی خان بابر کے کیس کو کافی شہرت ملی کیونکہ اس کے سجدے ہوئے دیگر لوگوں کو بھیانک نشانہ بناکر قتل کیا گیا ۔2014ءمیں ارشادمستوئی کو ایک رپورٹر اکاؤنٹنٹ کے ساتھ نامعلوم افراد نے نیوز روم میں گھات لگاکر قتل کیا تھا بھائی 2011 میں سلیم شہزاد کی لاش سراۓ عالمگیر کے پاس ایک نہر سے ملی تھی انہیں بھی اغوا کرنے کے بعد تشدد کرکے قتل کردیا گیا تھا پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کو بھی اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں