محکمہ اطلاعات میں دیر تک کام کرنے والے محنتی افسران کو نظر انداز کرکے من پسند افسران کو لاکھوں روپے آنریریا دے دیا

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ نے محکمہ کے مختلف افسران کو لاکھوں روپے کا آنر یریا جاری کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل اطلاعات کو چار لاکھ روپے سے زائد اور بعض افسران کو ایک ایک لاکھ روپے سے زائد رقم جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے جب کہ دیر تک آفس میں کام کرنے والے کی محنتی افسران اور ملازمین کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور ان کی حق تلفی کی گئی ہے اور من پسند افراد کو نوازنے پر محکمہ اطلاعات کے ملازمین اور افسران میں بے چینی پھیل گئی ہے ۔تحریری طور پر جائیں گے کہ مذکورہ حکم نامے کے مطابق انیس سو باسٹھ کے قانون کی رو سے دفتری اوقات کار کے بعد دیر تک بیٹھ کر کام کرنے والے افسران اور تعطیل کے دن بھی کام کرنے والوں کوئی اضافی رقم دی جاتی ہے لیکن جس بنیاد پر اس کا تعین کیا گیا ہے۔

اس پر محکمے کے اپنے افسران اور ملازمین حیران رہ گئے ہیں کیونکہ میں اگلے میں جو مسلمان ملازمین چھٹی ہو والے دن اور عام طور پر دفتری اوقات کار کے بعد بھی کام کرتے نظر آتے ہیں ان کے نام اس سے غائب کردیئے گئے ہیں من پسند افراد کے نام شامل کرکے ان کو کہیں ہزار روپیہ لاکھ روپے دینے کی منظوری دی گئی ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل منصور احمد شیخ کو چار لاکھ 56 ہزار روپے سے زائد رقم دینے کی منظوری دی گئی ہے ان کا نام فہرست میں سب سے اوپر درج ہے ۔جبکہ اسی فہرست میں ایک اور افسر کو چار لاکھ سات ہزار اور ایک اور افسر کو تین لاکھ 83 ہزار روپے کی رقم دینے کی منظوری دی گئی ہے مزید تین افسروں کو تقریبا ایک ایک لاکھ روپے سے زائد کی رقم دینے کی منظوری دی گئی ہے ۔حق تلفی کا شکار ہونے والے افسران اور ملازمین نے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات سے اس ناانصافی اور اب تلفی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور جن افسران اور ملازمین کے نام جان بوجھ کا فہرست سے نکالے گئے ہیں یا شامل نہیں کیے گئے ان کو بھی ان کی جائز محنت کے مطابق قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے رقم فراہم کرنے کی منظوری دینے کی اپیل کی گئی ہے ۔



 

اپنا تبصرہ بھیجیں