نواز شریف ہی اس وقت پاکستان کے حقیقی لیڈر امید کی کرن اور نجات دہندہ ہیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات میں کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے لئے یہ مشکلات یہ پریشانیاں کوئی نئی نہیں ہیں تاریخ گواہ ہے آپ کا لیڈر اپنے ملک کے لئے جو قدم اٹھا لے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا بس اپنے قائد پر بھروسہ رکھیں اور افواہوں پر کان نہ دھریں ۔
مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ وقت ایک بار پھر نواز شریف کی بے گناہی اور استقامت کی گواہی دے گا نوازشریف پر بہت آزمائشیں اور سختیاں مگر اللہ نے انہیں پسپا نہیں ہونے دیا اور سرخرو کیا ۔
مریم نواز نے لکھا ہے نواز شریف ہی اس وقت پاکستان کے حقیقی لیڈر ہیں امید کی کرن ہیں نجات دہندہ ہیں اور انشاءاللہ دنیا دیکھے گی پاکستان نوازشریف کی قیادت ہی میں ترقی کی بلندیوں کو چھوئے گا انشاءاللہ ۔
سیاسی مبصرین نے مریم نواز شریف کے اس بیان کی ٹائمنگ کو اہم قرار دیا ہے میڈیا میں یہ خبریں آرہی تھی کہ معاملہ پلی بارگین کا ہے اور نواز شریف کی لندن جانے کی تیاریاں مکمل ہیں دوسری طرف یہ بحث ہو رہی تھی کہ نوازشریف علاج کیلئے لندن جائیں گے اور عید وہی پر منائیں گے شہباز شریف لندن میں اپنا قیام بڑھا چکے ہیں اور وہ انتظار کر رہے ہیں کہ عدالت سے نواز شریف کو اجازت ملے اور وہ لندن پہنچے تو وہاں پر سیاسی مشاورت کی جائے ایسے میں مریم نواز کا یہ بیان دینا کے کارکن اپنے قائد پر بھروسہ رکھیں اور افواہوں پر کان نہ دھریں اہمیت رکھتا ہے ۔


پارٹی کے اندر پہلے ہی بحث ہورہی ہے کہ پارٹی قیادت کو خاموشی توڑ دینی چاہیے یا خاموشی برقرار رکھنی چاہیے با سینئررہنماؤں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی خاموشی وقت کی ضرورت ہے اس وقت جو فیصلہ نواز شریف کریں ان کے ساتھ کھڑے رہنا چاہیے جبکہ ایک سوچ یہ بھی موجود ہے کہ پارٹی قیادت کو خاموشی جلدازجلد چھوڑنی چاہیے تاکہ کارکنوں میں مایوسی نہ پہلے اور خاص طور پر قومی اسمبلی میں پارٹی کو متحرک اور فعال بنایا جائے تاکہ عمران خان کی حکومت پر اپوزیشن کا دباؤ بڑھے اور حکومت کی ناکامیاں عوام کے سامنے بے نقاب کی جائیں ۔جس انداز میں مریم نواز نے ٹویٹ کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے خود کو متحرک رکھنا چاہتی ہیں لیکن سیاسی بیان بازی نہیں کر رہی اور وقت پڑنے پر اکادکا بیانات دے کر اپنی حاضری لگوا لیتی ہیں ۔اطلاعات آ رہی ہیں کہ صرف نواز شریف کی لندن ہی جائیں گے بلکہ ان کے ساتھ مریم نواز بھی لندن جائیگی اور پارٹی کے حضرت گندل میں بیٹھ کر سلا مشورہ کرے گی شہبازشریف پہلے سے موجود ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں