شاہد آفریدی کا سچ بولنا بڑے کھلاڑیوں کے لئے مصیبت بن گیا

مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی کی کتاب گیم چینجر نے اپنی لانچنگ سے پہلے ہی بہت کچھ چینج کر دیا ہے شاہد آفریدی نے صحیح معنوں میں دھواں دار چوکے چھکے لگانے کے انداز میں کسی کو نہیں بخشا اور جو ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے بری طرح رگڑا ۔بڑے بڑے کھلاڑی اب منہ  چھپاتے پھر رہے ہیں اور ان کے لئے مصیبت بن گئی ہے شاہد آفریدی سچ بول رہا ہے اور بڑے بڑے نام والے کھلاڑی ایسے سامنے آئے ہیں کہ نام بڑا درشن چھوٹا۔
شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں راز فاش کرنے کا سلسلہ اپنے آپ سے شروع کیا ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ جب میں پہلا ون ڈے کھیلا تو میری عمر سولہ برس نہیں بلکہ 19 برس تھی ۔
جاوید میاں داد کے بارے میں شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ میرے بیٹنگ اسٹائل سے جاوید میاں داد کو نفرت تھی میاں داد کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے مگر وہ چھوٹے آدمی ہیں ۔
سابق چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ وقاریونس کی باتوں میں آگئے تھے ۔
پاکستان کے ایک اور مشہور کھلاڑی شعیب ملک کو  برے لوگوں سے برے مشورے لینے والا کھلاڑی قرار دیا ہے شاہد آفریدی کا ماننا ہے کہ شعیب ملک کو کپتان اور سلمان بٹ کو نائب کپتان بنانا ایک غلط اقدام تھا شعیب ملک کپتانی کے لیے فٹ نہیں تھے ۔


شاہد آفریدی نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ انہوں نے پاکستانی ٹیم کو میچ جتوانے کے لئے گیند چھپائی تھی جاوید میاں داد کے بارے میں ان کا مزید کہنا ہے کہ میاں داد نے کوچ بن کر ہمیشہ میری مخالفت کی جاوید میاں داد نے انیس سو ننانوے میں بھارت کے خلاف چنائی ٹیسٹ سے قبل مجھے پریکٹس نہیں کرائی، ٹیم سے ہٹ کر میں پریکٹس کرتا رہا آفریدی نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ مزید کہا کہ مظہر مجید کے فون سے پاکستانی کھلاڑیوں کو دیے گئے پیغامات ملے جس سے ہولناک انکشافات ہوئے ٹیم انتظامیہ کو ثبوت دکھائے مگر کوئی ایکشن نہ ہوا میں نے یہ پیغامات وقار یونس اور منیجر یاور سعید سے بھی شیئر کئے تھے ٹیم منیجمنٹ خوفزدہ تھی یا اسے ملک کے وقار کا خیال نہ تھا یاور سعید نے یہ پیغامات دیکھ کر بے بسی کا اظہار کیا تھا ۔پوری کتاب میں شاہد آفریدی نے شاید ہی کسی کو بخشا ہو لیکن اگر کسی کی تعریف کی ہے تو وہ عبدالرزاق ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں