مسلم لیگ نون کے اندر اسٹیبلشمنٹ گروپ بن گیا

سابق وزیراعظم نواز شریف کی خاموشی کی وجہ سے مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور پارٹی کے عہدے داروں کے اندر بے چینی بڑھتی جا رہی ہے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کئی ارکان پھٹ پڑے کھل کر کہا گیا کہ پارٹی کے اندر اسٹیبلشمنٹ گروپ بن گیا ہے پارلیمانی لیڈر کی تبدیلی کا فیصلہ بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا ۔اجلاس میں شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے سینئر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے دور میں قربانیاں دینے والوں کو اقتدار کے دور میں نظر دس کیا جاتا رہا ہے مسلم لیگ نون کے اقتدار میں آتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ گروپ مرکزی عہدوں پر براجمان ہوجاتا ہے آج مسلم لیگ نون کی پالیسی کا کسی کو علم ہی نہیں ہے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کامران مائیکل اور حنیف عباسی کی گرفتاریوں کے معاملے پر پارٹی نے جو خاموشی رکھی وہ حیران کن تھی کمال کی بات یہ ہے کہ اب میاں نواز شریف کے لیے کوئی بات ہی نہیں کرتا کیا سابق وزیراعظم خود آکر کہیں گے کہ میرے لیے بات کرو تو پھر ہم بات کریں گے پارٹی کو حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہیے پارٹی کو عملی جدوجہد تیز کرنی چاہیے۔


واضح رہے کہ مسلم لیگ نون نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جگہ رانا تنویر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نامزد کر دیا ہے جبکہ خواجہ آصف قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کیا گیا ہے ۔بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف نے موجودہ حالات میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور پارلیمانی لیڈر تبدیلی کا فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف سے مشاورت کے بعد کیا ۔شہباز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف شروع دن سے ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بننے کے خواہاں نہیں رہے صرف متحدہ اپوزیشن اور پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کے اصرار پر انہوں نے چیئرمین پی اے سی کا عہدہ قبول کیا تھا دوسری طرف عمران خان علانیہ کے چکے تھے کہ شہبازشریف کو وہ لگا کونسل کمیٹی کے چیئرمین بنانا غلطی تھی ۔سیاسی مبصرین کے مطابق شہباز شریف کا ملک سے باہر جانا اور وہاں کے عام میں توسیع کرنا اور پھر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چھوڑ دینا یہ بھی ایک این آر او کی نئی قسم نظر آتی ہے ۔اگرچہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون دونوں کی طرف سے یہی کہا جائے گا کہ کوئی این آر او نہیں ہوا لیکن سب کے سامنے شہباز شریف ملک سے باہر گئے اور پھر انہوں نے وہاں جاکر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے خود کو الگ کر لیا اسے اپنارو نا کہا جائے تو اور کیا کہا جائے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں