200 روپے کا پیٹرول ۔۔۔۔ وفاقی وزیر نے کیا اشارہ دے دیا؟

اکثر اوقات کسی فلمی سپر ہیرو کی مانند ایکشن دکھانے والے وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واڈا کا کہنا ہے کہ قوم دو سو روپے کا پیٹرول بھی برداشت کر لے گی اور پیٹ پر پتھر بھی باندھ لے گی ۔یہ باتیں انہوں نے مہمند ڈیم منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کہی ان کا کہنا تھا چالیس سال سے ملک میڈا کے ماننے والے اور اندھیروں میں دھکیلنے والے اب درس دے رہے ہیں کہ ہمیں حکومت کیسے چلانی ہے ہمیں کہتے ہیں کہ مہنگائی ہوگی۔
قوم نے وزیراعظم کو ووٹ اس لئے دیا ہے کہ ان ڈاکوؤں سے پیسہ وصول کریں اس قوم کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے قوم کہتی ہے کہ دو سو روپے کا پیٹرول بھی برداشت کر لیں گے اور پیٹ پر پتھر بھی باندھ لیں گے لیکن احتساب کا عمل کسی صورت ختم نہیں ہوگا ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مہمند اور دیامیر بھاشا ڈیم کو ملاکر 25000 سے 28 ہزار نوکریاں ہیں جو ہم دیں گے رمضان المبارک کے پہلے دس روز میں اپنی مدد آپ سے دو سو سے چار سو نوکریاں دی جائیں گی۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ لوگ فیصل واڈا سے پوچھ رہے تھے کہ نوکریوں کی بارش کب ہوگی ۔کیسے ہوگی کہاں ہوگی اس لیے اب فیصل واڈا نے مہمند ڈیم بھاشا ڈیم کا حوالہ دے کر نوکریوں کی بات آگے کر دی ہے رمضان میں دو سو سے چار سو نوکریاں دینے کا اعلان بھی کردیا ہے ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جن نوکریوں کا اشارہ آف وفاقی وزیر نے کیا ہے وہ تو ہر سال رمضان میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت دیتے ہیں ۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا وفاقی وزیر نے اشارہ دے دیا ہے کہ پیٹرول 200 روپے کا ہونے جارہا ہے ویا نوکریوں کی بارش تو ہوئی نہیں اور پٹرول 200 روپے کا ہونے کا عندیہ بھی سے دے دیا گیا ہے جس حساب سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ڈالر مہنگا ہو رہا ہے اگر یہی حالات رہے تو پیٹرول یقینا مزید مہنگا ہوتا جائے گا ۔حکومت نے لوگوں میں دلائی تھی کہ سمندر سے تیل اور گیس کے بہت بڑے ذخائر ملنے والے ہیں اور اعلان جلد ہو جائے گا لیکن وہ اسے خوشخبری بھی ابھی تک نہیں آسکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں