پاکستان میں موٹرسائیکل سواروں کے جان لیوا حادثات کی تعداد میں خوفناک اضافہ

پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی اور خستہ حالی کی وجہ سے موٹر سائیکل کا استعمال دن بدن بڑھتا جا رہا ہے لوکل ٹرینوں اور بسوں کی سروس اور تعداد میں کمی کی وجہ سے سفر کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جسے آسان اور ممکن بنانے کے لیے لوگوں نے موٹر سائیکل کی سواری کو آسان حل تلاش کر لیا ہے بڑے شہروں میں موٹر سائیکلوں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ حادثات کی تعداد کو بھی بڑھا دیا ہے صرف کراچی کے جناح اسپتال میں روزانہ موٹرسائیکلوں کے حادثات سے متاثرہ شہریوں کی ڈیڑھ سو سے زائد تعداد آتی ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موٹرسائیکل سواروں کے جان لیوا حادثات کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے حکومت اور ٹریفک پولیس کی جانب سے ہیلمٹ پہننے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین اور مہم چلانے کے باوجود حادثات کی تعداد میں کمی نہیں آ رہی جس کی ایک بڑی وجہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیور اور کم عمر ڈرائیور ہیں والدین نے کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل نے دے رکھی ہیں اکثر ڈرائیوروں کے پاس غلط طریقوں سے بنائے جانے والے ڈرائیونگ لائسنس ہیں یا سرے سے موٹرسائیکلوں کے کاغذ اور لائسنس نہیں ہیں بڑی شاہراہوں پر جہاں ٹریفک زیادہ ہوتا ہے.


وہاں یہ موٹر سائیکل سوار خود بھی حادثات کا شکار ہوتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی مسائل پیدا کرتے ہیں موٹرسائیکل سواروں کے جان لیوا حادثات کی وجہ سے ان کے لواحقین اور رشتہ دار بھی ساری عمر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی نئی اسکیمیں لانے کی ضرورت ہے بڑی کشادہ بسیں چلانے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور بڑے شہروں میں جیسے کراچی میں سرکلر ٹرینیں لوکل ٹرین چلانی چاہئے دنیا بھر کے بڑے شہروں میں لوکل ٹرینیں اور بڑی بس یہی مسئلہ کا حل سمجھی گئی ہیں کسی بھی ملک میں اتنی بڑی تعداد میں موٹرسائیکلیں نہیں چل رہی جتنی بڑی تعداد میں پاکستان کے شہر کراچی یا دیگر شہروں اور صوبوں میں چل رہی ہیں جس رفتار سے موٹرسائیکلوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو ایک دن ایسا آئے گا جب سڑکوں پر موٹر سائیکل نہیں موٹرسائیکلیں ہوگی موٹرسائیکلوں کے ساتھ ساتھ چنگچی رکشہ اور موٹرسائیکل رکشہ بھی مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں اور حادثات کا سبب بھی بن رہے ہیں حال عدالتیں اس حوالے سے مختلف کیسوں میں فیصلہ دے چکی ہیں لیکن ان فیصلوں پر عملدرآمد کرانا حکومت اور انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں