کمانڈو نے نہ آنا تھا نہ آیا ۔۔۔۔۔۔!

یہ تو طے تھا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اپنی بیماری کی وجہ سے عدالت میں حاضر نہیں ہو سکیں گے کیونکہ ڈاکٹروں نے انہیں فضائی سفر سے منع کیا تھا لہذا مقدمے کی اگلی سماعت 12 جون تک ملتوی کردی گئی۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب عدالت نے پرویز مشرف کو وہ سنگین غداری یا آئین شکنی کے مقدمے سے بری کرنے کا معاملہ پی ٹی آئی کی حکومت کی کورٹ میں پھینک دیا ہے حکومت سے اس حوالے سے جواب طلب کرلیا ہے۔
عدالت میں قانونی بحث ہورہی ہے اور چونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے عدالت میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور آنے والے دنوں میں کیا ہوگا یہ عدالت کے فیصلے کے آنے پر ہی پتہ چلے گا۔
جہاں تک جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے سیاسی کیریئر اور سیاسی مستقبل کا تعلق ہے تو سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ طے تھا کہ کمانڈو نے نہ آنا تھا نہ آیا۔
دراصل کمانڈو کے اپنے خیرخواہ نہیں چاہتے کہ کمانڈو پاکستان میں ان حالات میں آئے۔ جب تک کمانڈو کے خلاف قائم مقدمات ختم نہیں ہو جاتے یا وہ مکمل طور پر بری قرار نہیں دیے جاتے اس وقت تک ان کا پاکستان آنا ان کے خیرخواہوں کے لیے مسائل میں اضافہ کر سکتا ہے بہتر یہی ہے کہ وہ پاکستان سے باہر رہیں پاکستان سے دور رہیں اور وہاں آرام کریں اپنا علاج کرائیں اور خود کو پاکستان کے سیاسی معاملات سے دور رکھیں۔


سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف جو مقدمات قائم ہوئے وہ اس وقت کے وزیراعظم کے حکم پر بنائے گئے تھے جب کہ عدالت یا قرار دے چکی ہے کہ وزیر اعظم یا وزیر حکم دینے کا اختیار نہیں رکھتا حکم صرف حکومت دے سکتی ہے اور حکومت کا مطلب ہے وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری ۔اس قانونی نقطہ پر بحث ہورہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف اگر بیرون ملک رہ کر پاکستان کے عالمی حالات کے حوالے سے بات کرنا چاہیے باالخصوص پاک بھارت معاملات سمیت انٹرنیشنل ایشوز پر وہ اپنی رائے دینا چاہیں تو کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوگا لیکن جیسے ہی وہ پاکستان کی اندرونی سیاست کے حوالے سے بات کریں گے تو ان کے کردار پر سوالات اٹھیں گے اور جیسے ہی ان کی ذات پر تنقید ہوگی اعتراضات اور سوالات اٹھیں گے تو ان کے خیر خواہوں کے لئے نئی مشکلات کھڑی ہوگی لہذا خود پرویز مشرف اور ان کے خیرخواہ کے لئے یہی بہتر ہے کہ کمانڈو کو پاکستان سے دور رکھا جائے کم ازکم اس وقت تک جب تک ان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں یا وہ ان مقدمات سے مکمل طور پر بری نہیں ہوجاتے۔


نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد بظاہر پرویز مشرف کے لیے کوئی بڑا سیاسی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اب ان کے خلاف قائم مقدمات کی پیروی کرنے والا کوئی بڑا فریب میدان میں نظر نہیں آرہا لیکن مقدمات تو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے وقت درکار ہے اور جتنا وقت اس مقصد کے لیے درکار ہے اتنا وقت سابق صدر پرویز مشرف کو بیرون ملک رہکر انتظار کرنا پڑے گا اگر نوازشریف اقتدار میں رہتے تو پرویز مشرف کے لیے مشکلات میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوسکتا تھا لیکن عمران خان کے وزیراعظم بن جانے کے بعد براہ راست پرویز مشرف کے لیے خطرات میں کوئی اضافہ نظر نہیں آرہا بلکہ امید کی جارہی ہے کہ ان کی مشکلات میں دن بدن کمی آتی جائے گی۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں