نواز شریف نے جمع تفریق شروع کردی ۔ خواجہ آصف مطمئن لیکن خواجہ سعد رفیق نے پارٹی قیادت سے خاموشی توڑنے کا مطالبہ کردیا

پاکستان مسلم لیگ نون کی خاموش سیاست اس وقت ان کے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اپنے رہنماؤں عہدیداروں اور کارکنوں کے لئے بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے پوچھا جارہا ہے کہ یہ خاموشی کب تک رہے گی اس کی وجہ کیا ہے اور اس سے حاصل کیا ہوگا ایک سوچ جدوجہد کے لئے عملی اقدامات کرنے سے متعلق ہے جس طرح پیپلز پارٹی اور جےیوآئ کر رہی ہے اسی طرح مسلم لیگ کے اندر بھی یہ سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ پارٹی کی قیادت کو خاموشی توڑ کر عملی جدوجہد کی طرف قدم بڑھانے چاہیے تاکہ حکومت پر دباؤ بھی آئے اور پارٹی کے اپنے حامی اور کارکن متحرک اور فعال رہیں دوسری طرف ایسے رہنما اور عہدے دار بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ جو پالیسی نوازشریف نے اختیار کی ہے اس پر عمل کیا جائے فی الحال خاموشی اختیار کئے رکھنا ہی بہتر ہے حالات کا رخ دیکھا جائے اور آنے والے دنوں کی تیاری کی جائے ہر گزرنے والا دن اس حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے اور عوامی حکومت اور اس کی کارکردگی سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں.


یوم صرف کرپشن کرپشن اور چور چور ڈاکو ڈاکو کا راگ الاپ رہی ہے اس کے علاوہ اس نے آٹھ نو مہینے میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کے ذریعے عوام کو ریلیف ملے یا ملک ترقی کی شاہراہ پر آگے کی جانب بڑھا ہوں اس حکومت نے ہر وہ کام کیا ہے جو یہ دوسروں پر تنقید کرتے تھے کہ یہ چور ہیں ڈاکو ہیں کمیشن کھا رہے ہیں لیکن اب وہی لوگ ہیں وہی اقدامات ہیں وہی پالیسیاں ہیں اور نہ مہنگائی میں کمی آئی ہے نہ پٹرول سستا ہوا ہے نہ بجلی سستی ہوئی ہے نہ لوگوں کو ریلیف ملا ہے اس لیے حکومت کے دعوے اور وعدے عوام کو یاد ہیں ان پر کوئی عمل نہیں ہورہا اور لوگ اس حکومت سے اب سوال پوچھنے لگے ہیں یہ حکومت خود اپنا وزیرخزانہ تبدیل کر چکی ہے باقی وزراء کی کارکردگی بھی عوام کے سامنے ہیں کتنے ہی وزرا کے قلمدان تبدیل کیے گئے ہیں اور حکومت نے آئی میسر جو بھی کر لیا ہے اور قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف سمجھتے ہیں کہ نواز شریف وقت کا انتظار کر رہے ہیں وہ مصلحت سے کام لے رہے ہیں اور اپنے وقت پر بولیں گے فی الحال ان کی خاموشی درست ہے لہٰذا ان کو ڈسٹرب نہ کیا جائے اور ان کی خاموشی کا ساتھ دیا جائے.


وہ جب مناسب سمجھیں گے بولیں گے اور پھر جو بولیں گے تو پھر سب سنیں گے۔خواجہ آصف تو نواز شریف کی پالیسی سے مطمئن نظر آتے ہیں لیکن خواجہ سعد رفیق کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے پارٹی کا دت سے خاموشی توڑنے کامطالبہ کردیا ہے اور انہوں نے اپنا موقف پیش کیا ہے کہ اگر خاموشیاں طویل ہوگئی تو مایوسی پہلے گی اور کارکنوں اور حامیوں کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی قیادت بولے اور عملی جدوجہد کا آغاز کرے تاکہ حکومت دباؤ میں آئے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے اہم رہنما کارکن اور عہدیدار اس بات پر حیران ہیں کہ شہباز شریف لندن میں کیا کررہے ہیں اور وہ آئندہ کیا کرنا چاہتے ہیں ان کی وطن واپسی میں تاخیر ہوئی ہے اور قومی اسمبلی میں حکومت کے اوپر دباؤ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے بالکل نرم پالیسی اختیار کی گئی ہے جس میں سختی لانے کی ضرورت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں