پاکستان صدارتی نظام سے دولخت ہوا تھا تاریخ گواہ ہے جب جب سو یلین وزیرخزانہ آئے معیشت بہتر ہوئی

سید خورشید شاہ کا شمار پاکستان کے سینئر اور تجربہ کار سنجیدہ سیاستدانوں میں ہوتا ہے وہ مختلف ملکی اور بین الاقوامی معاملات پر پاکستان کی پوزیشن کے حوالے سے کھل کر بات کرتے ہیں اندرونی اور بیرونی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے پیپلز پارٹی کے سینئر ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور نپی تلی گفتگو کے ماہر ہیں۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے یاد دلایا ہے کہ پاکستان صدارتی نظام کی وجہ سے ہی دولخت ہوا تھا پاکستان میں ٹیکنو کریٹ کی حکومتوں کو یکے بعد دیگرے نہ کامیاب ہوئی پاکستان کی ترقی کے لئے سیاستدانوں کے سوا کوئی راستہ نہیں پاکستان کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ سیاستدانوں کو خودمختاری دی جائے انہوں نے دعوی کیا ہے کہ سیاستدان خود مختار ہو تو معیشت تین سال میں آسمان پر چلی جائے گی ملک میں 40 سے 45 سال تک صدارتی نظام رہا.


جس کے نتیجے میں معیشت تباہ ہوئیں اور جب جب سیولین وزیرخزانہ آئے تو معیشت بہتر ہوئی بطور وزیر خزانہ لیاقت علی خان،  ڈاکٹر مبشر اور یاسین وٹو کا بجٹ تاریخ میں بہتر رہا لیکن اس ملک کی تباہی اس وقت شروع ہوئی جب ڈاکٹر محبوب الحق کی ڈاکٹرائن آگئی ۔انہوں نے سوال کیا کہ کرپشن میں ملوث گزرا عمران خان کی کابینہ میں کیسے اور کیوں آئے یہ بات اب تحریک انصاف کے رہنما بھی پوچھنا شروع ہوگئے ہیں اور عوام کے سامنے بھی حقیقت آگئی ہے کہ دعوے کیا کیے گئے تھے اور عملی طور پر کیا کیا جا رہا ہے ۔خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت گزشتہ برس ستمبر میں ہی آئی ایم ایف کے پاس چلی جاتی تو ڈالر 130 پر ہی رہتا اب ڈالر 150 پر پہنچ گیا ہے یا غلط پالیسیوں سے نقصان ہوا ہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں