وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین بھی مسعود اظہر کے خلاف فیصلہ نہ رکو ا سکا؟

سیاسی اور سفارتی حلقوں میں بحث ہورہی ہے کہ کیا پاکستان کا دفتر خارجہ اپنی ناکامی کو کامیابی قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے ؟ چین ایک عرصے سے دیوار بنا ہوا تھا آخر یہ دیوار اچانک کہاں چلی گئی کے اقوام متحدہ نے مسعود اظہر کا نام دہشت گردی فہرست میں شامل کر لیا اثاثے منجمد سفر اور اسلحہ کی خریدوفروخت پر پابندی لگادی اطلاع کبھی فوری ہوگا۔ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ ان کا نام انڈیا میں ہونے والے پلوامہ حملے سے نہیں جوڑا گیا اور کشمیر میں ہونے والی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے الگ رکھا گیا ہے ۔کیا یہ ففٹی ففٹی کامیابی کہلاۓ گی یا ون ون پوزیشن کہیں گے؟
پاکستان کے میڈیا نے سادہ سے انداز میں خبر دی ہے کہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ کا فیصلہ رکوانے میں حکومت ناکام ہوگئی ہے نام دہشت گردی کی عالمی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے بھارت کے ایما پر قرارداد فرانس امریکہ اور برطانیہ نے پیش کی تھی چین نے تکنیکی بنیاد پر رکاوٹ پیدا کر کے کافی عرصے تک دیوار کا کردار ادا کیا اور ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے تجویز کو متعدد بار ویٹو کیا ہے لیکن اب چین کہ تکنیکی اعتراض ختم ہو گیا چین پیچھے ہٹ گیا پاکستان چین پر اپنا دباؤ قائم نہیں رکھ سکا ۔پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی تلوار بھی سر پر لٹک رہی تھی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں خود کو جانے سے بچا لیا ہے لیکن کیا خطرہ مکمل طور پر ختم ہوگیا یا صرف کچھ عرصے کے لیے ٹل گیا ہے؟


کیا ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے مولانامسعوداظہر کو وسیع تر قومی مفاد میں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے ؟اس حوالے سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔
مولانا مسعود اظہر کے اثاثے منجمد سفر اور اسلحے کی خریدوفروخت پر پابندی لگادی گئی ہے فیصلے کے بعد ترجمان دفتر خارجہ نے ناکامی کو بھی کامیابی قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ کالعدم جیش محمد کو پلوامہ حملے سے نہیں جوڑا گیا ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک مامی متحدہ کا فیصلہ آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے چین کا انتہائی اہم دورہ کیا اور چین کے وزیراعظم کے دورے کے باوجود مسعود اظہر کے خلاف فیصلہ آگیا حکومت کے فیصلہ ٹرین کے ذریعے رکوانے میں ناکام ہوگئی اس کا کیا مطلب لیا جائے ؟کیا وزیراعظم عمران خان خود یہی چاہتے تھے ؟یا حکومت پاکستان چین کو قائل کرنے میں اس مرتبہ ناکام ہوگئی اور چین اس معاملے میں ایک قدم پیچھے ہٹ گیا حالانکہ چین نے 2016- 2017 میں بھی مسعود اظہر پر پابندی کے اقدام کو ویٹو کر دیا تھا لیکن اب 2019 میں چین نے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز پر اپنے تکنیکی التوا کو ختم کردیا ۔چین نے ایسا کیوں کیا ؟حکومت پاکستان نے چین کے ساتھ اس معاملے پر کیا ڈائیلاگ کیا ؟۔اس حوالے سے بہت سے سوالات لوگوں کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں ۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کے کام متحدہ کی داعش اور القاعدہ سے متعلق پابندی کمیٹی نے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی ملک میں کوئی جگہ نہیں ۔


دوسری طرف چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھیجی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین دہشت گرد اور انتہا پسند قوتوں کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا فریقین کی مشترکہ کوششوں سے مسعود اظہر کا معاملہ مناسب طریقے سے حل کرلیا گیا ہے۔
تازہ صورتحال پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ برطانیہ اور فرانس کی مدد ملنے سے نئی دہلی کے لیے مستقبل میں معیشت سمیت دیگر معاملات پر پاکستان پر اپنا دباؤ بڑھانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے آنے والے دنوں میں حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں