نفیس لوگ اور نفیسوں کا بانی! … احمد سلیم صدیقی

کل وزیر اعظم صاحب نے کہا کہ ہماری کابینہ میں ایم کیوایم کے ارکان سے زیادہ نفیس کوئی نہیں ظاہر ہے یہ بات صرف خالد مقبول صدیقی اور فروغ نسیم کے لئے کہی گئی کیوں کہ یہی دو ایم کیوایم کے افراد ان کی کی کابینہ میں شامل ہیں ۔لیکن صاحب وزیراعظم کی اس بات نے بھی کمال کی آگ لگادی ایم کیو ایم سے ہمیشہ بغض رکھنے والے لوگوں کے منہ سے پھر سے جھاگ نکلتا نظر آیا۔ مجھے گذشتہ عام انتخابات کے موقع پر اپنی وہ رپورٹنگ یاد آگئی جس میں جب میں نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ آپ اس بار کس کو ووٹ دیں گے تو انہوں نے نہایت جذباتی انداز میں کہا ہم جس کو بھی دیں کہا یہی جائے گا کہ ہم نے ایم کیوایم کو ووٹ دیا ہے ہماری پشت پر ایم کیوایم کی مہر لگی ہوئی ہے ۔ہم سے بغض رکھنے والوں نے اب ہارے لیئے کوئی آپشن رہنے ہی نہیں دیا کہ ہم کسی اور کو ووٹ دیں ۔ جس طرح نائن الیون کے بعد ہر مسلمان کو دہشت گرد سمجھا جانے لگا اسی طرح بانی ایم کیو ایم کی تقریر کے بعد ہر ایم کیوایم کے سپورٹر کو اس کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے ۔ یہاں لوگوں کے ذہنوں سے یہ باتیں نکال دی گئیں کہ پاکستان کا جہاز کس نے اغوا کیا کراچی اورنگی ٹاون میں کس نے قتل عام کیا، حیدرآباد میں کس نے لشکر کشی کرکے لاشوں کے انبار لگا ئے، لوگوں کو تو یہ بھی یاد نہیں رکھنے دیا کہ قتل عام میں ملوث افراد کو باعزت بری کردیا گیا یہاں اگر بار بار ذکر کرکے لوگوں کےذہنوں میں ٹھونسا گیا تو ہمارے خلاف ہی زہر ٹھونسا ، بیس سال تک ہماری ایک نسل کو جناح پور کا شوشہ چھوڑ کر بدنام کیا جب ایک نسل کو مشکوک کردیا تب اس راز سے پردہ اٹھا کہ یہ سب ایک افسانہ گھٹرا گیا تھا۔


جب انہوں نے باتوں کے دوران صولت مرزا کی پھانسی کا ذکر کیا تو سوالیہ انداز میں پوچھا کہ اس کی پھانسی درست تھی ! جس پر میں نے کہا کہ اس کو جرم کے اعتراف کرنے کے بعد پھانسی دی گئی ہے اور اس کے بیان کے مطابق اسے ایسا کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ تو فوری دوسرا سوال کیا کہ لوگوں کی گردنیں کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلنے والوں نے بھی اعتراف کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے یہ قتل کس کے حکم پر کیئے کیا انہیں ہوئی پھانسی ! کسی نے اس پوری پارٹی کو کہا کہ یہ غداروں کی پارٹی ہے ۔ ماڈل ٹاوٗن میں لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا ایف آئی آر میں نام درج ہوئے کیا لوگ نہیں جانتے وہ قتل کس کے حکم پر ہوئے کہا کسی نے کہ یہ قاتلوں کی پارٹی ہے ۔ ارے بھائی عدالتوں سے سزائیں ہوئی ہیں کہ یہ کرپشن میں ملوث ہیں ، عمر قید کی سزائیں ہوئی ہیں لیکن سب اقتدار میں بھی آتے ہیں کوئی نہیں کہتا یہ چور ہیں ، غدار ہیں قاتل ہیں کیوں کے لوگوں کے زہنوں سے نکال دیا جاتا ہے کتنی عجیب بات ہے کہ اگر ایم کیوایم کا میئر مصطفیٰ کمال کراچی میں اچھے کام کرتا اسے ایشیاء کے بہترین میئر کا ایوارڈ بھی ملتا تو کہا جاتا اس سے ایم کیوایم کا کیا تعلق یہ تو مصطفیٰ کمال کا کام ہے لیکن جرم کرنے پر کبھی نہیں کہا گیا کہ یہ جرم تو صرف ایک بندے کا ہے بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم مجرم ہے۔



اس واقعہ کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ کل جیسے ہی وزیراعظم نے یہ جملہ کہا کہ ہماری کابینہ میں ان سے زیادہ نفیس کوئی نہیں اس کے بعد پھر وہی پرانی باتیں کی جانے لگیں ، بھتہ خور، قاتل، غدار، ایجنٹ وغیرہ ۔ یہی باتیں ہیں جو ایم کیوایم کے سپورٹر میں احساس کمتری کا باعث بنتی ہیں ۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ موجودہ تمام ایم کیوایم نے لاکھ جتن کرلئے اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرنے کے لیئے یہاں تک کہ تمام نفیسوں نے اپنے ہی بانی کو پارٹی سے نکال باہر کردیا اس کے خلاف خود ہی ایوانوں میں تحریک پاس کرادی لیکن اپنا دامن پھر بھی نہ دھو سکے۔ پرویز مشرف کو اکثر کہتے سنا تھا کہ اب ایم کیوایم کو نام بدلنا ہوگا ایم کیوایم بدنام ہوچکی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ نام کی تبدیلی سے بھی لوگوں کے دلوں کا بغض ختم نہیں ہوگا کیوں کہ اصل وجہ تنظیم میں کے زیر سایہ ہونے والے برے کام نہیں بلکہ ماضی میں طویل عرصہ تک سیاسی میدانوں میں ان کی شکست کا ہے جو یہ لوگ بھلا نہیں پارہے ۔ کیوں کہ اگر تنظیموں کے برے کاموں کی وجہ سے انہیں برا کہا جائے تو پھر ہر اس تنظیم کو برا کہا جائے جس کے کارکنان اور سربراہان جرائم میں ملوث ہیں ۔ یہی وجہ ہے جب کوئی ایم کیو ایم کے ممبران کی تعریف کرتا ہے تو ان کے تمام زخم اس قدر تکلیف دینے لگتے ہیں کہ پھر ان کے منہ سے جھاگ آنے لگتا ہے ۔ کیوں کہ اگر تنظیموں کے برے کاموں کی وجہ سے انہیں برا کہا جائے تو پھر ہر اس تنظیم کو برا کہا جائے جس کے کارکنان اور سربراہان جرائم میں ملوث ہیں ۔


:Note
all opinion about and against on this issue will be welcome. Chief editor


 

اپنا تبصرہ بھیجیں