صدارتی نظام اور قائد اعظم کی ڈائری

ملک بھر میں چند طاقتور عناصر کی جانب سے پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام متعارف کرانے کی سوچ پر بحث جاری ہے صدارتی نظام کی حمایت کرنے والے اس کا سلسلہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے جوڑنے لگے ہیں اور مختلف حوالے دے کر یہ بحث آگے بڑھائی جارہی ہے کہ غالبا قائداعظم بھی ملک میں صدارتی نظام کے حامی تھے جبکہ صدارتی نظام کی مخالفت کرنے والے ایسے حوالوں کو رد کر رہے ہیں اور ایسی کوششوں کو جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں کی جانے والی کوششوں کا تسلسل قرار دیتے ہیں ۔
بعد میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی سارے اختیارات صدر کے پاس مرتکز کرنے کی حد ممکن کوشش کی گئی ۔مختلف ادوار میں پاکستان کے پارلیمانی نظام کے ہونے کے باوجود اختیارات اس طریقے سے آئین میں تبدیلی آکر کے صدر کو دیے گئے کے صدر مختلف اوقات میں اسمبلیاں برخاست کرکے حکومتوں کو گھر بھیج دیتا تھا اور اپنی مرضی کا نگران سیٹ اپ مقرر کرکے اس کے ذریعے نئے الیکشن منعقد کرکے اپنی مرضی کی حکومت لا سکتا تھا ایسا ایک سے زائد مرتبہ ہوا اور عوام نے یہ تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھا نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کے علاوہ یہ معاملہ جتنی مرتبہ بھی عدالتوں میں یا وہاں صدر کے فیصلے کے حق میں آواز آئی یا پھر اتنی تاخیر ہو گئی کہ نئے الیکشن کرانے پر ہی اکتفا کیا گیا ۔


انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سابق ڈائریکٹر اور دانشور آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام کے حق میں دلیل دیتے ہوئے جنرل ضیاءالحق نے دعویٰ کیا تھا کہ قائداعظم صدارتی نظام حکومت چاہتے تھے جس کا ذکر ان کی ڈائری میں ملتا ہے لیکن اس ڈائری کو کبھی عوام کے سامنے نہیں لایا گیا البتہ صرف ایک صفحہ میڈیا کو جاری کیا گیا تھا جبکہ لوگ قائداعظم سے منسوب اس بات کا سیاق و سباق کا جائزہ نہ لے سکے ۔کیونکہ جنرل ضیاء کے ہاتھ رنگے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے ایک عرصے تک قائد کی ڈائری کا ذکر نہیں کیا انہوں نے ایک آئینی حکام کا تختہ الٹا کیا تھا جو ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا آزادی سے قبل قائداعظم نے سزائے موت تجویز کی تھی انڈین نیشنل آرمی کے افسران کو حکومت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر بات کرتے ہوئے قائداعظم نے انڈین نیشنل اسمبلی میں کہا تھا کہ
جب وقت آن پڑا تو پاکستان میں میری فوج بلاشبہ اپنے ہر ایک فریضہ انجام دے گی اور وفاداری کا مظاہرہ کرے گی اور اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو پھر چاہے وہ سپاہی ہوں افسر ہوں یا پھر سولین اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا جیسا ولیم جوائس اور جان امیریکا ہوا یہ دو افراد انگلش اشرافیہ کے ممبران تھے جبکہ جوانا میری سیکریٹری اسٹریٹ برائے ہندوستان کے بیٹے تھے ان دونوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کی حمایت پر پھانسی دی گئی تھی ۔
آئی اے رحمان کا مزید کہنا ہے کہ جنرل ایوب خان ایک ایسے صدارتی نظام پر یقین رکھتے تھے جس میں پارلیمنٹ کے اندر کوئی سیاسی جماعت نہ ہو ۔ نہ ہی اداروں کے آگے جواب دے ہو ۔

پاکستان کے مشہور صحافی تجزیہ نگار کالم نویس اور اینکر پرسن حامد میر بھی صدارتی نظام پر کھل کر بول رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کے دور حکومت میں جب جنرل پاشا نے انہیں بلایا اور کہا کہ پارلیمنٹ اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے تو انہوں نے صدارتی نظام کی سخت مخالفت کی تھی اس معاملے پر ان کی بحث ہو گئی تھی ۔اے آر وائی ٹی وی کے پروگرام میں وسیم بدامی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے حامد میر نے یہ پورا واقعہ سنایا اور یہ بھی بتایا کہ اس کے بعد سب جانتے ہیں کہ انہیں ملک دشمن اور غدار جیسے القاب بھی دیے گئے ان کے خلاف ایک نفرت انگیز مہم چلی اور پھر ان پر حملے بھی ہوئے ۔


پاکستان کے مختلف حلقوں میں صدارتی نظام کی حمایت اور مخالفت میں بحث جاری ہے کم از کم ایک بات واضح ہے کہ جن عناصر نے بھی یہ بحث شروع کرائی وہ اس پر بحث کرانے میں کامیاب رہے ہیں اور مختلف تاریخی حوالوں سے صدارتی نظام کی حمایت اور مخالفت میں دلائل دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدارتی نظام کی حمایت یا مخالفت میں زیادہ بحث میڈیا میں ہورہی ہے پارلیمنٹ میں نہیں ۔گورنرخیبرپختونخواہ  شاہ فرمان نے ذاتی طور پر صدارتی نظام کی حمایت کی ہے لیکن ابھی بہت سے نام ایسے ہیں جو بظاہر صدارتی نظام کے حامی ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر بات بھی کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے صدارتی نظام پر ابھی تک پارلیمنٹ کے اندر کھل کر باتیں اور تقریریں نہیں کی ۔سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام آرہا ہے نہ ہی آسکتا ہے ۔حامد میر کا بھی یہ کھلا چیلنج ہے کہ صدارتی نظام کی حمایت کرنے والے صدارتی نظام لا کر دکھائیں ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نظام گن پوائنٹ پر ہی آسکتا ہے اس کے علاوہ کوئی امکان نہیں ۔جبکہ پاکستان کے سینئر سیاستدان سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام کے نتیجے میں ہی پاکستان دولخت ہوا تھا تاریخ کا یہ سبق یاد رکھنا چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں