احتساب ہوگا تو سب کا ہوگا ورنہ دما دم مست قلندرہوگا، بلاول بھٹو زرداری

کراچی – پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹونے عید کے بعد پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب ہوگا تو سب کا ہوگا ورنہ دما دم مست قلندرہوگا ،ہم احتساب کے خلاف نہیں احتساب سب کا ہونا چاہیئے،جج،  جنرل، سیاستدانوں سب کے احتساب کے لیے ایک قانون بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ دوغلی پالیسی اب نہیں چلے گی ہم احتساب کے خلاف نہیں ہیں مگرنیب گردی نہیں چلنے دیں گے ۔ انہوں نے معیشت کی ناکامی،بڑھتی معاشی بدحالی پرعوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ آئی ایم ایف سے کسی خفیہ ڈیل کوہم تسلیم نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم نے اپنے قائد سے غداری کی اورکراچی کے لوگوں کولاوارث چھوڑدیا،الطاف حسین کے گناہوں کی سزا کراچی کے لوگوں کونہیں دی جاسکتی ہے تحریک انصاف اورایم کیو ایم کوکراچی کی حالت کا حساب دینا ہوگا۔ان خیالات کا اظہارپیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے یوم مزدورپرلانڈھی داود چورنگی پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج یوم مزدور پر قائدآبادمیں جمع ہوکر اپنافرض اداکررہےہیں،ذوالفقاربھٹو نے روٹی کپڑا مکان کاوعدہ کیاتھا،ہمارےکاندھےپربہت بڑی ذمہ داری ہے،نئے پاکستان میں ہمارا مزدور محنت کش کامعاشی قتل کیاجارہاہے ہم آج کراچی میں جمع ہوکر یوم مزدور منارہے ہیں،آج مزدوروں کو گھر دے کر ہم قائد عوام کاوعدہ نباہ رہے ہیں،مزدور کا معاشی قتل اور یونین کمزور کی جارہی ہیں،ہم ان کا حق چھیننے نہیں دینگے اور ہم انکے بازو بن کر حقوق دلائیں گے،یہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں روشنیوں کا شہر کراچی ہے،یہ موٹر ویز اور بلند عمارتیں، سڑک اور ایئرپورٹ بنانے میں مزدور کا خون شامل ہے ،شھید بھٹو اور شھید بینظیر نے ان کو سلام کیا میں بھی سرخ سلام پہش کرتا ہوں،سرمایہ دار اور مزدور میں ہمیشہ کشمکش رہی ہے جو رہے گی،آج ٹیکنالوجی بھی مزدور کے استحصال میں شامل ہے ،میں اس استحصال کے خلاف مزدور کے ساتھ کھڑا ہوں،مزدور گندم کی بوری تو اٹھاتا ہے مگر کھا نہیں سکتا،سرمایہ دار یہ گندم کھا تو سکتا ہے مگر اٹھا نہیں سکتا،سونے کی کان والا مزدور سونا نہیں پہن تا مگر سرمایہ دار کی بیٹی سونا پہنتی شادی کرتی ہے،کپڑے کی فیکٹری میں مزدور کپڑا بناتا مگر پہں نہیں سکتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہاکہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس نے مزدوروں کے حقوق کے لیے سترہ قوانین پاس کیے ہیں۔


انہوں نے کہاکہ حکومت نے وزیرخزانہ کوہٹاکرمان لیا کہ حکومت ناکام ہے فیل ہے عوام کے لیے کچھ نہیں کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کواس ملک کی عوام سے معافی مانگنی چاہیئے غریب عوام کا آٹھ ماہ تک معاشی قتل کیا گیا حکمرانوں کی نااہلی کے بوجھ کی وجہ سے عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہی ہے حکمرانوں کی نالائقی کا بوجھ عوام بجلی گیس اورمہنگائی کی صورت میں بھگت رہی ہے اہم ان کا مقابلہ کریں گے خان کومزدوروں سے معافی مانگی ہوگی کیونکہ وہ عوام کے معاشی قتل کا مجرم ہے عوام کی غربت اوربیروزگاری کا مجرم ہے انہوں نے کہاکہ عوام کےساتھ ہونے والی ناانصافیون اورمحرومیون کا حساب لیں گے ۔ جتنا قرض اس حکومت نے لیا ہے انتا قرض ملکی تاریخ میں کسی نے نہیں لیا ہے آئی ایم ایف سے جو قرض لیا جارہا ہے جوڈیل کی جارہی ہے اسے عوام سے چھپایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے کسی خفیہ ڈیل کوہم تسلیم نہیں کرتے ہم ان سے جب سوال کرتے ہیں پوچھتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے کیا ڈیل ہوئی تو یہ منہ چھپاتے ہیں کچھ نہیں بتاتے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران مہنگائی کوسابق حکومتوں اورسابق صدرآصف علی زرداری کی وفاقی حکومت کوقراردیتے ہیں مگرآج ہماری حکومت کے وزیرخزانہ کواپنی حکومت میں شامل کرلیا عمران خان ہم پرتنقید کرنے کی بجائے ہمارے وزیرخزانہ سے ہمارے دورکے بارے میں پوچھ لیں انہوں نے کہاکہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے وزیرخزانہ توہمارا لے لیا مگر پالیسیاں باہرکی نافذ کی جارہی ہیں جوحکومت کی ناکامی کی وجہ ہے ۔ بلاول بھٹو نے کہاکہ تحریک انصاف اورمسلم لیگ نون غریب کوغریب تراورامیرکوامیرتربنانے کی پالیسی پرقائم ہیں ۔ آج معیشت کی تباہی کا سارا بوجھ غریبوں پرمحنت کشوں پرڈالا جارہا ہے اگربوجھ ڈالنا ہے تو امیروں پرڈالیں ان کی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے محنت کش کا معاشی قتل ہورہاہے غریب اورمزدورکا معاشی قتل ہورہاہے نوجوان بیروز گارہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے دورمیں دہشت گردی اورمعاشی بدحالی عروج پرتھی دودوسیلاب آچکے تھے ڈکٹیٹرسے خزانہ خالی ملاتھا پیپلزپارٹی نے معاشی بدحالی کا خاتمہ کیا ہم نے 6.8 ملین نوجوانوں کوروزگاردیا ملک میں گندم نہیں تھی گندم یوکرین سے منگوائی جاتی تھی پیپلزپارٹی کی کسان دوست پالیسیوں کی وجہ سے ملک گندم ایکسپورٹ کرنے والا بن گیا۔ انہوں نے کہاکہ نیب کی وجہ سے ہرچھوٹے بزنس مین کوچوراورڈاکوبنایا جارہا ہے ، نیب کی وجہ سے لوگوں کوخوف میں مبتلا کیا جارہا ہے ملک ایسے نہیں چلتا جیسے حکمران چلا رہے ہیں ، نیب کالا قانون ہے ، نیب مشرف ڈکٹیٹرکا بنایا ہوا ادارہ ہے جو سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا ہے نیب والے تشدد کرکے لوگوں کومارتے ہیں ان کی قید میں لوگ جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ آصف علی زرداری نے اس لیے کہا ہے کہ ملک میں نیب گردی چلے گی یا معیشت ۔


بلاول بھٹو نے کہاکہ پیپلزپارٹی احستاب کے خلاف نہیں اگرشفاف احتساب ہوگا تو جمہوریت مظبوط ہوگی اگرنیب گردی ہوتی اورسیاسی انتقام ہوگا تو کرپشن بڑھتا رہے گا ہم احستاب کے خلاف نہیں ہیں ہم کہتے ہیں کہ سب کے لیے ایک قانون بنائیں جج جنرل سیاستدانوں سب کے احتساب کے لیے ایک قانون بنایا جائے احتساب ہوگا تو سب کا ہوگا وگرنہ دما دم مست قلندرہوگا ایسا نہیں ہوسکتا کہ پنجاب میں تفتیش مکمل ہونے کے بعد نیب گرفتاری کرتا ہے مگرسندھ میں الزام لگتے ہی گرفتاری کرتا ہے اگرپنجاب کے امیرترین مل اونرز کے بیرون ملک اثاثے اورجائیداد نکلتی ہے اوراکاؤنٹ نکلتے ہیں تو سب حلال ، نہ جے آئی ٹی بنتی ہے نہ منی ٹریل کا حساب مانگا جاتا ہے دوسری طرف سندھ میں خواتین کوبھی حراسان کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ دوغلی پالیسی اب نہیں چلے گی ہم احتساب کے خلاف نہیں ہیں مگرنیب گردی نہیں چلنے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ صدر زرداری کےدورمیں تاریخی قانونسازی ہوئی،تنخواہوں پنشن میں اضافہ ہوا مزدورں کو اداروں کامالک بنایاگیا،دوسرےصوبوں۔کی حکومت نےمزدورں کےلیےکچھ نہیں کیا،سندھ واحد صوبہ ہےجس نے مزدورں کےلیےسہ فریقی لیبر پالیسی دی ۔انہوں نے کہاکہ کراچی سمیت سندھ بھرکی مردم شماری جعلی ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں سندھ کے وسائل چوری ہورہے ہیں کراچی کا بلاول آپ کے حقوق کے لیے آوازاٹھاتا رہے گا وہ عوام کے حق چھیننا چاہتے ہیں،وہ حقوق جن کے لیئے محترمہ نے شھادت حاصل کی وہ حقوق چھیننا چاہتے ہیں،وہ آج بھی آپ کے 120 ارب پر ڈاکہ ڈال کر بیٹھے ہیں،یہ حق اور فیصلہ عوام کریں گے کہ اسلام آباد کو حق حاصل نہیں کٹھ پتلی کو حق حاصل نہیں ہےاس حکومت کی نااہلی اور نقصان کا حساب ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کو بھی دینا پڑے گا،گیس چوری، بیروزگاری اور غربت کاحساب ایم کیو ایم اور اتحادیوں کو دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ کراچی والو کیا تبدیلی تمہیں پسند آئی،کراچی کے مینڈیٹ اور ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہم عوام کے حقوق کا تحفظ کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ وفاق ہمارا پانی کا حصہ نہیں دے رہا کے فور بن بھی جائے تو شھر کے لوگ پیاسے رہیں گے ،یہ لوگ آواز نہ اٹھائیں مگر بلاول آواز اٹھائے گا۔ انہوں نے کاکہ مقابلوں میں لوگوں کی ہلاکت اورلاپتہ لوگوں میں اضافہ ہورہا ہے مگر وہ خاموش ہیں کراچی کابلاول آپکے لیئے آواز اٹھائے گا،یہ کیا ادہر ادہر کی آواز لگا بیٹھے ہیں،یہ پورا پاکستان اور پورا سندھ ہمارا ہے،ہم سب ایک اور متحد ہیں ایک ہوکر زیادہ کام کرسکتے ہیں کچھ لوگ ہمیں لسانی بنیاد پرلڑانا چاہتے ہیں اگر آپس میں لڑتے رہیں گےتو وفاق ہمارا حق چھینتا رہے گا یہ لوگ جو اس دھرتی کو ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں کل بھی عوامنے ان کو مسترد کیاآج بھی مسترد کرتے ہیں یہ وقت متحد ہونے کا ہے ہم ملکر 1973 کا آئین اٹھارویم ترمیم اور معاشی حقوق کا تحفظ کریں گے۔ انہوں اعلان کیا کہ عید کے بعد حکمرانوں کے خلاف دما دم مست قلندرہوگا۔ ہم رمضان کے بعد منہگائی کے خلاف سڑکوں پر عوام کے حقوق کے لیئے نکلیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں