بلاول بھٹو زرداری بھی نواز شریف کے راستے پر چل پڑے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اسی راستے کے مسافر بن گئے ہیں جس پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے چلنے کا فیصلہ کیا ۔یوم مری کی تقریب سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے لانڈھی میں ایک پرجوش تقریر کی اور خود کو کراچی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کراچی کے حقوق کے لئے آپ کا بیٹا بلاول آواز بلند کرتا رہے گا بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ الیکشن چوری ہوئے الیکشن کا مینڈیٹ جعلی ہے بلاول نے پہلی مرتبہ کہا کہ نائن زیرو کے حلقے والی سیٹ ایم کے ایم نہیں ہاری بلکہ کراچی کا الیکشن چوری کیا گیا الیکشن کے فورا بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے سب سے پہلے یہ بیان دیا تھا کہ مینڈیٹ چوری کرلیا گیا ہے اب بلاول نے بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ کراچی سے ایم کی ایم ہاری نہیں بلکہ کراچی کا الیکشن چوری کیا گیا کراچی الیکشن میں کی جانے والی دھاندلی پر ایمکیم خاموش ہے مگر کراچی کا بیٹا بلاول کراچی کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتا رہے گا یاد رہے کہ خود بلاول بھی کراچی سے لیاری کی روایتی سیٹ پیپلزپارٹی کو جتوانے میں ناکام رہے اور انہیں بھی شکست ہوئی ان کا رزلٹ بہت تاخیر سے جاری کیا گیا کئی دن لگ گئے .



لہذا پیپلزپارٹی اور بلاول شروع دن سے کہتے رہے کہ الیکشن میں نتائج تبدیل ہوئے ہیں مینڈیٹ چوری ہونے کا اعلان تو سب سے پہلے نواز شریف نے کیا تھا اور اب بلاول نے بھی انہی کی ہاں میں ہاں ملا دی ہے مولانا فضل الرحمان پہلے ہی الیکشن نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی بات کرچکے ہیں اور انہوں نے اسمبلیوں میں نہ بیٹھنے کی بات بھی کی تھی بلکہ حلف اٹھانے سے ہی روکنا چاہتے تھے ۔سیاسی مبصرین نے بلاول بھٹو زرداری کی اس بات کو خاصی اہمیت دی ہے کہ کراچی کے حقوق کی بات کرنے کے ساتھ ساتھ نائن زیرو کی سیٹ کر رزلٹ تبدیل ہونے اور مینڈیٹ چوری ہونے کی بات پہلی مرتبہ کی گئی ہے کیا بلاول بھٹو زرداری ایم کے ایم کی سپورٹ حاصل کرنا چاہ رہے ہیں یا ایم کیو ایم کو دوبارہ سرگرم سیاست میں آنا ہوتا دیکھ رہے ہیں اس سے قبل خود وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے دوستوں کی بہت تعریف کی تھی اور اپنی کابینہ میں ان کے وزراء کو سب سے نفیس گزرا قرار دیا تھا ۔عمران خان کی جانب سے ایم کیو ایم کے وزرا کی تعریف پر بھی لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے تھے اور اب بلاول کی طرف سے نائن زیرو کیسی ٹائم کی منہائی نہیں بلکہ مینڈیٹ چوری ہوا کی بات کہنا بھی لوگوں کو آسانی سے ہضم نہیں ہو رہا سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے پاس ایم کے ایم کے مستقبل میں اہم سیاسی کردار کے بارے میں یقینا کوئی اشارہ آیا ہے اسی لیے انہوں نے ایم کیو ایم 1990 ہاری الیکشن چوری ہوا جیسی بات کی ہے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم ایک مرتبہ پھر سیاسی دھارے میں اتحادی بن سکتے ہیں اور اہم قومی امور پر ایک صف میں کھڑے ہوکر ایک دوسرے کی آواز سے آواز ملا سکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں