قومی خزانے کی چابی آصف زرداری کے وزیر کے حوالے کیوں کی گئی؟

وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف 23 سالہ جدوجہد پر خوش ہے اور پر عزم ہے کہ وہ پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ بیرون ملک سے واپس لائے گی اور پاکستان کے عوام کی حالت بدلے گی پاکستان میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا ۔لیکن وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت سے سب سے اہم سوال یہ کیا جارہا ہے قومی خزانے کی چابی آصف زرداری کے وزیر خزانہ کے حوالے کیوں کی گئی ہے اگر 23 سالہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے تو پی ٹی آئی کے پاس اپنا وزیر خزانہ کیوں نہیں ہے اگر اسدعمر ناکام رہے ہیں تو ان کا متبادل پی ٹی آئی کے اندر سے کیوں نہیں ڈھونڈا گیا اور اگر آصف زرداری کے دور کا وزیر خزانہ بہت اچھا قابل اور لائق ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ آصف زرداری کے دور میں پی ٹی آئی اور عمران خان نے جتنی تنقید کی وہ بلاوجہ تھی اور وہ عوام کے لیے گمراہ کن پروپیگنڈہ تھا اگر آصف زرداری کے دور کا وزیر خزانہ قابل ہے اور پاکستان کو بحران سے نکال سکتا ہے تو پھر پیپلزپارٹی کا یہ مطالبہ بھی جائز ہے کہ اگر سارے وزیر پیپلزپارٹی کے لینے ہیں تو وزیراعظم بھی پیپلزپارٹی سے لے لیا جائے معیشت پر گہری نظر رکھنے والے حیران ہیں کہ پی ٹی آئی نے جتنے وعدے کئے تھے ان سب باتوں سے ایک ایک کرکے وہ پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے سب سے بڑے مخالفین میں خود عمران خان اور پی ٹی آئی شامل تھی اور اس کا کہنا تھا کہ ایک ٹیکس چور مافیہ ہے جو عوام کا پیسہ چوری کرتی ہے


خود ٹیکس نہیں دیتی اور ٹیکس کے پیسوں کا غلط استعمال ہوتا ہے کہا گیا تھا کہ ٹیکس اور مافیا کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا اور حکومت نے ٹیکس نہ دینے والوں کو گاڑیوں اور جائیداد کی خریداری سے روک دیا تھا جس پر گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والے بعض لوگ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پر دباؤ بڑھاتے رہے لیکن وہ نہیں مانے اور اب پی ٹی آئی کی حکومت نے آکر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو آگے بڑھا دیا اور اپنے اعلانات اور دعووٴں سے پیچھے ہٹ گئی اسد عمر کا کہنا تھا کہ سارا شور اس لئے ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت بڑے بڑے مافیا کے سامنے ڈٹ گئی ہے کھڑی ہے لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے حکومت نہ جانے کہاں کھڑی ہے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم آگے بڑھا کر اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے واصل لوگوں کے سامنے جھک گئی ہے بلکہ لیٹ گئی ہے جو کام اور اقدامات پی ٹی آئی کے حکومت کر رہی ہے اگر یہی کام اور الزامات کسی اور پارٹی کی حکومت نے کیے ہوتے تو پی ٹی آئی کی قیادت نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا اور شور کر کر کے ناک میں دم کر دینا تھا لیکن اب وہی سب کچھ ہو رہا ہے جس کے خلاف پی ٹی آئی آواز بلند کیا کرتی تھی ۔عوام سب دیکھ رہے ہیں اور سیاسی مبصرین اس پر پرانی باتیں اور پی ٹی آئی کے نعرے اور وعدے حکمرانوں کو یاد دلاں رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں