نیب کے ایک قیدی کی سچی کہانی

نیب کے ہاتھوں گرفتار ایک قیدی نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے یوں کہا ہے کہ نیب کے افسران اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری شخصیات کو بھی مقدمات میں ملوث کر دیتے ہیں اور پھر ان کی گرفتاریاں بھی عمل میں لے آتے ہیں گرفتاری کے بعد نیب کی کسٹڈی سب سے خطرناک ہوتی ہے ملزمان کو جس جگہ رکھا جاتا ہے اور جس انداز سے رکھا جاتا ہے وہ انتہائی خوفناک انداز اور خطرناک دن ہوتے ہیں ملزمان پر زبردست دباؤ ڈالا جاتا ہے اور ان کو ذہنی اذیت سے گزارا جاتا ہے نیب کے تفتیشی افسران یہ امید کرتے ہیں کہ اس دباؤ کے دوران ملزمان ان کی بات مان جائیں گے اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے اکثر ایسا ہو ہی جاتا ہے جس چھوٹی سی جگہ پر ملزمان کو رکھا جاتا ہے وہ ان کے لیے اذیت سے کم نہیں ہوتی اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات مشکل ہوتی ہے اگر اذان کی آواز نہ آئے تو یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس وقت دن ہے یا رات ۔جس کھانے کو بہترین کوالٹی کا حامل کہا جاتا ہے وہ عام حالات میں بھی کوئی نہ کھائے ۔جو کچھ مجھ پر بیتی وہی میرے ساتھ دیگر لوگوں کی کہانی بھی ہے ۔


تفتیشی افسران کے پاس پوری معلومات نہیں ہوتی وہ تھوڑی سی معلومات لے کر باقی سب کچھ ملزمان کی زبانی سننا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اس کیس کو ایک ٹھوس کیس بنا کر عدالت میں لے جا سکیں گے لیکن ایسا ہوتا بہت کم ہیں اور معلومات کی کمی کی وجہ سے یا غلط بندے کو اٹھا کر لے آنے کی وجہ سے تفتیشی افسران اور ان کے ادارے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور قانونی مشیر اور وکیل اور عدالتوں میں ان کی مشکلات میں اضافہ کردیتے ہیں میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا میں ایک غیرسرکاری شخص ہوں اور میرے لئے یہ حیران کن تاکہ مجھے نیب نے اٹھایا اور میرا تعلق سرکاری شخصیات کے ساتھ جوڑا اور مجھے بہت ڈرایا دھمکایا گیا مجھے بہت ہی چھوٹی سی اذیت ناک جگہ پر رکھا گیا میری فیملی سے ملاقات بند کر دی گئی باہر کی دنیا سے تعلق ختم کردیاگیا دن تھا یا رات کچھ وقت کا پتہ نہیں لگتا تھا کھانا کھانے کے لیے جب رابطہ ہوتا تو پوچھتا تھا کہ کون سی اذان ہوئی ہے کون سا وقت ہے کچھ کچھ بتا دیتے تھے ورنہ کچھ پتہ نہیں چلتا تھا مجھ سے بار بار جو سوال کرتے تھے میں ان کا جواب کئی مرتبہ دے چکا تھا لیکن انکو میری بات پر یقین ہی نہیں آتا تھا پھر آج اب عدالت پہنچے اور ساری باتیں کھلی تو پتہ چلا کہ ان کے پاس تو معلومات ہیں ادھوری ہے اور کسی اور کا معاملہ میرے سے جوڑ دیا ہے اس پوری کارروائی کے دوران ایک نتیجہ میں نے اخذ کیا ہے کہ جو شخص بھی نیب کی کسٹڈی میں 60 دن گزار لیتا ہے.


اس کے بعد پھر وہ شیر بن جاتا ہے پھر یہ لوگ اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے اور وہ شخص عدالت سے ریلیف حاصل کرتا ہے اور سینہ چوڑا کرکے گھومتا ہے اور جس شخص نے ان کے آگے جھکنا ہوتا ہے یا اپنا جرم قبول کرتا ہے وہ شروع کے تیس سے ساٹھ دنوں کے اندر اندر سارا کام ہو جاتا ہے ۔جن لوگوں کو نیو کسی شکایت پر اٹھا کر لے آتا ہے بعد میں تفتیشی افسران اس کو وضاحت دیتے ہیں اور بااثر ملزمان کے سامنے ان کے افسران خود مانتے ہیں کہ وہ مجبوری میں یہ سب کچھ کر رہے ہیں ۔کی سیاسی شخصیات بھی نائب کی مہمان بنیں جنہیں نیب کے افسران نے یہ کہا کہ آپ کا اپنا قصور تھا اگر آپ نے اپنے دور حکومت میں کچھ اور قانون سازی کر لی ہوتی تو آج اپنے آپ کے مہمان نہ بنتے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں