بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کئے جانے کے عمل کے دوران بے قاعدگیوں کے حیران کن انکشافات

کراچی- بلدیہ عظمی کراچی کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کئے جانے کے عمل کے دوران بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے حیران کن انکشافات ہوئے ہیں اسکروٹنی کے دوران 12 سو سے زائد بھرتیوں میں سے 722 ملازمین کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے درگار دستاویزات کے ایم سی کے محکمہ پے رول میں جمع کراکر اپنی تنخواہ پرنٹ کراسکتے میئر کراچی اور ان کی ٹیم کی پوری کوشش ہے کہ رمضان المبارک سے قبل ان ملازمیں کی تنخواہ جاری کردی جائے اسکروٹنی کمیٹی کے قریبی زرائع کا دعوی ہے کہ شارٹ لسٹ کیے جانے والے 722 ملازمین میں سے بھی کئی ملازمین متنازعہ ہیں کیوں کہ ٹی نمبر کسی کا ہے اور نام کسی اور کا جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔


زرائع کی کہنا ہے میئر کراچی کی جانب سے ایک بہتر اور اچھے اقدام کو سنگین بے قائدگی کے زریعے متنازعہ بنانے والے بعض افسران کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی بلکہ انہیں بچانے کی کوشش جاری ہے واضح رہے کہ حکومت سندھ کی منظوری سے میئر کراچی نے بلدیہ عظمی کراچی میں طویل عرصہ سے کنٹریکٹ پر فرائض انجام دینے والے افراد کو مستقل ملازمت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی زرائع کے مطابق اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محکمہ ایچ آر ایم ۔محکمہ آئی ٹی اور محکمہ صحت کے بعض افسران نے ملی بھگت کرکے بہت بڑی تعداد میں ایسے افراد کو مستقل کیے جانے والے ملازمین کی فہرست میں شامل کرادیا زرائع کے مطابق یہ افراد کبھی بھی کے ایم سی میں کنٹریکٹ پرملازم نہیں تھے۔زرائع کے مطابق میئر کراچی کے اچھے اقدام کو متنازعہ بنانے والے افسران نے فہرست میں شامل کیے جانے والے افراد ایم سی ۔میئر کراچی اور ایک سیاسی جماعت کی سفارش ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں