زرعی قوانین کیخلاف احتجاج کو 100 دن مکمل،بھارتی کسان پُرعزم

زرعی قوانین کیخلاف احتجاج کو 100 دن مکمل،بھارتی کسان پُرعزم

بھارتی کسانوں نے احتجاج کے 100 روز مکمل ہونے کے بعد نریندر مودی کی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے آج (ہفتہ کو) ملک کی مصروف ترین شاہراہیں بند کر دی جائیں گی اور دہلی کے دھرنوں میں مستقل رہنے کی تیاریاں کر لی گئیں۔

مودی سرکار نے مظاہرین کیلئے پانی کی سپلائی روک دی، کاشکاروں نے اپنے واٹرپمپ لگا لئے۔مودی سرکار نے کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دلی کے دھرنوں میں مظاہرین کیلئے پانی کی سپلائی روکنے کا عمل شروع کر رکھا ہے،کاشتکاروں کا کہنا تھا کہ بڑی کمپنیاں سب کچھ کھا جائیں گی، بھارت میں اناج کا بحران پیدا ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ مودی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف کسان پانچ ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ مسئلے کے حل کے لیے کسان رہنماؤں اور حکومت کے درمیان مذاکرات تاحال11ادوار ناکام ہو چکے ہیں، حکومت نے ان قوانین کو 18 ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون میں تبدیلی سے کم کسی بھی چیز پر احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت میں زرعی اصلاحات کے قانون کی ستمبر میں منظوری دی گئی اور اس وقت سے کسان دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں ۔مودی سرکار نے کسانوں کا جلوس روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے بھی رابطہ کیا، لیکن بھارتی چیف جسٹس بینچ نے اسے پولیس معاملہ قرار دےدیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس متنازع قانون کو زراعت کے شعبے میں لاکھوں کسانوں کوبااختیار بنانے کے لیے ضروری سرمایہ کاری اور جدت پسندی کی حوصلہ افزائی قرار دے چکے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعت کانگریس کسانوں کی حمایت کرتی نظر آتی ہے ۔

حالیہ برسوں میں بھارت میں خشک سالی اور قرضوں کے بڑھتے بوجھ کی وجہ سےاب تک ہزاروں کسان خودکشی کرچکے ہیں ۔

Courtesy Gnn news