نیب نے سابق میونسپل کمشنر ضلع وسطی اخترشیخ اورسابق ڈائریکٹر ایڈمن شمعونہ صدف کے خلاف سنگین مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا

کراچی – قومی احتساب بیورو (نیب) سندھ نے سابق میونسپل کمشنر ضلع وسطی اخترشیخ اورسابق ڈائریکٹر ایڈمن شمعونہ صدف کے خلاف سنگین مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔زرائع کے مطابق سابق میونسپل کمشنر اختر شیخ اور شمعونہ صدف پر الزام ہے کہ دونوں کی۔ملی بھگت سے ایڈورٹائزنگ کے شعبہ میں کروڑوں کی کرپشن کی گئی ہے اس سلسلے میں محکمہ بلدیات سندھ کے ایس او 5 نے نیب کے لیٹر نمبر No.CVC-2239/ MC-475/IO-10/ NAB(K)/2019/1515 , بتاریخ کے 25-04-2019 کے حوالے سے شمعونہ صدف کا تفصیلی سروس ریکارڈ جس میں ابتدائی تقررنامہ سمیت پرموشن آرڈرز کے تمام قانونی مراحل کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں.


علاوہ ازیں شمعونہ صدف کے بیک وقت چار چار عہدوں جس میں 1-ڈائریکٹرایڈمن وسطی ، 2-ڈائریکٹر ایڈورٹائزنگ ، 3-ڈائریکٹر ٹریڈ لائسنس ، 4-ڈائریکٹرلینڈ یوٹیلائزیشن پر تعنیاتی کا قانونی جواز طلب کیا ہے جبکہ بلدیہ وسطی کے میسررز MFQ Vision کے_ ساتھ ہونے والے معاہدے بسلسلہ سائن بورڈز معاہدے_ کی رقم اور ریکوری کی تمام تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں زرائع کے مطابق سابق میونسپل کمشنر اختر شیخ اور شمعونہ صدف نے معاہدے کی آڑ میں بلدیہ وسطی کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا اور شمعونہ صدف نے اپنے دستخط سے میسرز MFQ Vision کو موونگ پبلیسٹی کی غیر قانونی اجازت بھی دی اور ضلع وسطی کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا نیب سندھ 3 مئی 2019 کوشمعونہ صدف کا تمام سروس ریکارڈ اور معاہدوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔


اپنا تبصرہ بھیجیں