آئی جی سندھ کی ذیر صدارت امن وامان کے حوالے سے اجلاس

واردات کے دوران زخمی خواتین یا بچوں کے گھر انکی عیادت کے لیئے جائیں۔ ڈاکٹرسید کلیم امام

آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے امن وامان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ڈی آئی جی ویسٹ کے آفس میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کی اور سیکیورٹی سمیت دیگر جرائم کے خلاف پولیس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مذید ضروری ہدایات دیں۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ویسٹ نے زون غربی کے اضلاع میں اسکولز، کالجز،جامعات،بنکس، کاروباری۔مراکز،صنعتی ایریاز،مارکیٹس سمیت مساجد، مدارس، امام بارگاہوں، اقلیتی عبادت گاہوں/مذہبی مقامات، مزارات، درگاہوں کے علاوہ اسمعٰیلی/بوہری جماعت خانوں اور میڈیا گروپ کے دفاتر پر سیکیورٹی ودیگر ضروری پولیس اقدامات پرخصوصی حوالوں سے بریفنگ دی اور پولیس ترجیحات کی تفصیلات کا احاطہ کیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹرامیر شیخ، ڈی آئی جی ویسٹ ڈاکٹرامین یوسف زئی کے علاوہ ضلع وسطی اور غربی کے ایس ایس پیز سمیت ایس ایس پیز انویسٹی گیشن وسطی اور غربی نے بھی شرکت کی۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ کرائم انالیسز کے تحت جرائم کی مختلف نوعیت کی وارداتوں سے متاثرہ علاقوں کے منتخب کردہ پوائنٹس پرناکہ بندی اسنیپ چیکنگ اور پیٹرولنگ کو ناصرف مذید ٹھوس بنایا جائے بلکہ ایسے علاقوں میں انٹیلی جینس کو بڑھاتے ہوئے ٹارگٹیٹڈ ایکشن کو بھی انتہائی مؤثراور کامیاب بنایا جائے۔ انہوں نے واضح ہدایات دیں کہ وکٹم سپورٹ پروگرام کے تحت اسٹریٹ کرائمز ودیگر واقعات میں باالخصؤص زخمی خواتین اور بچوں کی عیادت کیلیئے انکے گھرجائیں اور مجھے بھی ساتھ لیکر جائیں جسکا مقصد شہریوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انھیں بتانا کہ پولیس انکے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے خلاف پولیس کی مدد کرنیوالوں کو بہادر شہری کے خطاب کے ساتھ ساتھ انھیں نقد انعامات بھی دیئےجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم سے متاثرہ شہری کی ایف آئی آر کے اندراج اور ابتدائی پولیس اقدامات میں تاخیر ہرگزنہ کی جائے۔جبکہ تھانوں پر موصولہ دیگر شکایات کی تصدیق اور ایف آئی آر کے اندراج میں بھی فوری پولیس اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔علاوہ اذیں تھانوں سے رجوع کرنیوالے شہریوں کے ساتھ احسن سلوک اور مثبت برتاؤ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ جرائم کے خلاف جاری کاروائیوں کو مذید تیز اور مؤثربنایا جائے اور ایمرجینسی کی صورت میں درکار افرادی قوت کے لیئے فوری رابطہ کیا جائے تاکہ مستعد اور متحرک ریزرو پلاٹونز کے ذریعے جملہ ضروری پولیس اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں