اشتہارات کرپشن کیس ۔ انعام اکبر عدالت سے چھپن چھپائی کھیلتے رہے ۔ سپریم کورٹ نے درخواست ضمانت خارج کردی

سرکاری اشتہارات میں کرپشن کے بد نام زمانہ مقدمے میں نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد مشہور ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے مالک انعام اکبر کی عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں بیماری کا بہانہ بنا کر طبی بنیاد پر ضمانت حاصل کرنے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی سپریم کورٹ میں بیل منڈھے نہ چڑھ نے پر وکیل نے عافیت اسی میں سمجھی کہ درخواست فورا واپس لے لی جائے چنانچہ درخواست زمانت واپس لیے جانے پر عدالت نے اسے خارج کردیا دوران سماعت سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے انعام اکبر عدالت سے چھپن چھپائی کھیلتے رہے کبھی پیرول پر چلے گئے کبھی جے پی ایم سی اسپتال ۔انعام اکبر کے کنڈکٹ پر ہی ہائیکورٹ نے انکوائری کا حکم دیا ۔جن کو زمانے ملی وہ تو فرنٹ مین تھے جبکہ کمپنی کے اصل مالک تو انعام اکبر ہیں ۔
انعام اکبر کے وکیل نے صورتحال بگڑتی ہوئی دیکھی تو عدالت سے استدعا کی کہ اس مرحلے پر کیس واپس لینے کی اجازت دی جائے تاکہ بعد میں طبی بنیادوں پر نہیں درخواست دائر کی جا سکے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے آپ جس بھی نئے گراؤنڈ پر جائیں درخواست دائر کریں لیکن اپنے حکم میں میڈیکل گراؤنڈ لینے کا نہیں لکھ سکتے جس کے بعد عدالت نے انعام اکبر کی درخواست زمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی ۔



عدالت نے قرار دیا کہ ملزم انعام اکبر کے اس کا مرکزی کردار ہے ساری رقم اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی ۔سپریم کورٹ کے جناب جسٹس عظمت سعید،  جناب جسٹس اعجاز الحسن خجراب، جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سندھ حکومت کی جانب سے دیے گئے اشتہارات میں کرپشن کے مقدمے میں مرکزی ملزم انعام اکبر کی درخواست کی سماعت کی اس دوران جسٹس اعجاز الحسن نے معافی ہے کہ انعام اکبر تو کیس کا مرکزی ملزم ہے سب سے زیادہ فائدہ بھی ملزم نے ہی اٹھایا ضمانت کیسے دی جاسکتی ہے ؟وکیل کامران مرتضیٰ نے موقف اپنایا انعام اکبر کمپنی کا صرف ایک ڈائریکٹر تھا جبکہ کیس کے دیگر تین ملزمان کی ضمانتیں ہوچکی ہیں جسٹس ایجاز نے کہا انعام اکبر ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ چیف ایگزیکٹیو بھی تھا اور الزام یہ ہے کہ اشتہارات کی رقم کم تھی اور بل زیادہ وصول کیے گئے ۔جیسے ایک بل 44 ملین کا بل بنا کر اپنے 200ملین وصول کر لئے اور یہ ساری رقم انعام اکبر کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں گی ۔وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اس میں 52 گواہی ابھی تک ٹرائل شروع نہیں ہوا ملزم انعام اکبر دل کا مریض ہے علالت کے باعث کی ضمانت پر غور کیا جائے ایک سال سے انعام اکبر جیل میں ہے جسٹس عظمت سعید نے کہا پھر آپ ٹرائل کورٹ میں جاکر کیس لڑیں بیماری کے لیے علیحدہ درخواست آئے گی تو پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ بھی ہمارے سامنے ہے جسٹس اعجاز نے کہا آپ عدالت سے چھپن چھپائی کھیلتے رہے کبھی آپ پے رول پر چلے گئے کبھی آپ جناح اسپتال ۔انعام اکبر کے کنڈکٹ پر ہی ہائیکورٹ نے انکوائری کا حکم دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں