پشتو گلوکارہ نازیہ اقبال کی بہادری پر مبنی ایک سبق آموز کہانی

اپنی خوبصورت آواز کا جادو جگانے والی خوبصورت پشتو گلوکارہ نازیہ اقبال ایک انتہائی بہادر اور جرات مند خاتون ہیں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور زیادتی پر اپنے بھائی کے خلاف مقدمہ لڑا اور عدالت نے اسے سزائے موت اور جرمانے کی سزا  سنائی ۔اب اس کی والدہ سمیت پورے خاندان کا دباؤ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو معاف کردے لیکن اس نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور کہا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کے لئے وہی کچھ کیا ہے جو ایک ماں کو کرنا چاہیے ۔میری بیٹیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا میرا اپنا بھائی ہے تو کیا ہوا مجرم کو سزا دلانی چاہیے ۔میں نے قانون کے مطابق اپنی بیٹیوں کے حق کے لئے آواز بلند کی اور مقدمہ لڑا اور سزا دلائی ۔نازیہ نے اپنے اکیس سالہ بھائی افتخار کو معاف کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے


ان کا موقف ہے کہ میں نے والدین کو ایک سبق دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا تحفظ کریں اور یہ دیکھیں کہ ان سے ملنے والے ان سے کیا رویہ رکھتے ہیں چاہے وہ ان کے سگے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ۔نازیہ نے گزشتہ برس 25 اپریل کو شکایت درج کرائی تھی روات پولیس اسٹیشن میں اس کے بھائی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا کے اس کے بھائی نے کئی مہینوں تک اس کی بیٹیوں کو جنسی طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر کسی کو بتایا تو جان سے مار دوں گا ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ نے الزام ثابت کردیا اور عدالت نے اس کو سزا سنا دی ۔اب رشتے داروں اور خاندان کا دباؤ ہے کہ نازیہ اپنے بھائی کو معاف کردے اسے بہتر زندگی گزارنے کا ایک موقع دے دیا جائے نازیہ کی ماں نے بھی نازیہ پر بہت دباؤ ڈال رکھا ہے کہ میری خاطر بھائی کو معاف کردو لیکن نازیہ اقبال نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے اور رشتے داروں اور ماں سمیت سب کی درخواست مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ مجھے جذباتی طور پر بلیک میل نہیں کیا جاسکتا ۔میں نے جو کیا اپنی بیٹیوں کی بھلائی اور بہتری کے لئے کیا اور ہر ماں ایسا ہی کرتی جو میں نے کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں