نیب کے ہاتھوں گرفتار علیم خان کس کے لئے خطرہ ہے ؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رکن پنجاب اسمبلی عبدالعلیم خان کہ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ کسی بھی ملزم کو غیر معینہ مدت کے لیے سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا نیب اپنی رپورٹ کب مکمل کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کنڈیشن ریمانڈ پورا ہونے کے وقت جیل حکام نے علیم خان کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا ڈیوٹی جج نے کیس کی سماعت کی اور علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 13 روز کی توسیع کردی گئی عدالتی استفسار پر لیپروسی ٹیوٹر اور تفتیشی افسر نے بتایا کہ ابھی تفتیشی رپورٹ تیاری کے مراحل میں ہے عدالت نے نئے حکام کو یاد دلایا کہ کسی بھی ملزم کو غیر معینہ مدت کے لیے اسلامو کے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کو حتمی رپورٹ کی تیاری کیلئے مزید مہلت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 13 مئی تک ملتوی کردی۔



سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نیب کے ہاتھوں گرفتار علیم خان دراصل سیاسی طور پر کس کے لئے خطرہ بن چکا ہے اگر علیم خان جیل میں رہے تو کس کا فائدہ ہے اور اگر علیم خان جیل سے باہر آجائے تو کس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے الیکشن کے موقع پر پی ٹی آئی کے حلقوں میں یہ باتیں ہوتی تھی کہ علیم خان وزارت اعلی پنجاب کے امیدوار ہوں گے لیکن جب الیکشن نتائج آئے اور اس کے بعد منظرنامہ تبدیل ہوا تو وزارت اعلی کے لیے وزیراعظم عمران خان نے عثمان بوزدار کا نام منتخب کرکے سب کو حیران کردیا پاکستان تحریک انصاف کو لاہور اور پنجاب بھر میں مضبوط اور مستحکم کرنے میں علیم خان اور دیگر رہنماؤں کا بڑا کردار ہے نون لیگ اور دیگر سیاسی مخالفین علیم خان کو ماضی میں بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن یہ عجیب بات ہے کہ علیم خان اپنے سیاسی مخالفین کے دور میں جیل نہیں گئے بلکہ اپنی ہی حکومت میں جیل میں ہیں اور نیب کی تحقیقات سے گزر رہے ہیں اور ان کے مشکل دن ابھی ختم نہیں ہوئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں