سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی خاندانی جائیداد کی فروخت کا معاملہ ۔ اصل حقائق سامنے آگئے ۔ بھائی عامر العباد جعلسازی کے مرتکب قرار ۔

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی خاندانی جائیداد کے معاملے کی اصل حقیقت سامنے آگئی ہے کچھ دنوں سے اس حوالے سے میڈیا میں مختلف خبریں آنے سے کچھ سوالات اٹھ رہے تھے جن کا جواب حاصل کرنے کے لئے جیوے پاکستان ڈاٹ کام نے اس معاملے کی کھوج لگائی تو یہ حقائق سامنے آئے کہ بنیادی طور پر کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں اس خاندان کی پراپرٹیز والدہ مرحومہ کے نام پر تھی جنہیں قانونی ورثا نے اتفاق رائے سے ڈاکٹر عشرت العباد کے نام منتقل کر دیا تھا ڈاکٹر عشرت العباد نے فیملی پراپرٹیز کو فروخت کرکے تمام قانونی ورثاء میں برابر حصہ تقسیم کرنے پر سب کے اتفاق رائے سے پیش رفت کی تھی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے پاور آف اٹارنی 2 اکتوبر 2018 کو چھوٹے بھائی عامر العباد خان کے نام بنائی گئی تھی اور انہیں پراپرٹیز فروخت کرنے کا اختیار سونپا گیا تھا.


کرائے داروں میں سے ایک مسٹر اعجاز خریدار کے طور پر سامنے آئے ۔پراپرٹی فروخت کرنے والوں کی جانب سے وکیل سردار طارق نیازی اور خریداروں کی طرف سے جناب وسیم کو ذمہ داری سونپی گئی 22 مارچ 2019 کو دونوں پارٹیز کے درمیان ان کے وکلا کی موجودگی میں معاہدہ طے پا گیا فروخت کنندگان کی جانب سے امیر العباد خان نے دستخط کیے کیونکہ پاور آف اٹارنی ان کے پاس تھی جبکہ خریداروں کی جانب سے مسٹر اعجاز نے خود دستخط کیے مسٹر اعجاز نے 40لاکھ روپے چیک بیانے کے طور پر ادا کیے ۔فیملی کے اتفاق رائے سے عامر العباد خان نے مساوی رقم کے چیک مسٹر طارق نیازی کو دیے ۔لیکن جب سردار طارق نیازی نے چیک کیش کرانا چاہے تو وہ نہ ہوسکے پتہ چلا کہ عامر العباد نے انہیں کلیئر ہونے سے رکوا دیا ہے ۔اس حوالے سے تمام فیملی ممبرز نے عامر العباد کو بار بار سمجھایا کہ وہ معاملہ حل کرائیں پھر وکیل نے انہیں نوٹس دیا کہ چیک ادا کر دیں لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا چنانچہ تمام فیملی ممبرز کی جانب سے پاور آف اٹارنی 9 اپریل 2019 کو واپس لے لی گئی کینسل کر دی گئی اور اس کے بارے میں عامر العباد کو بتا دیا گیا کیونکہ انہوں نے فیملی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور ان کی بدنیتی کا عنصر بھی سامنے آگیا تھا ۔


11 اپریل 2019 کو عامر العباد نے یہی پراپرٹی ایک اور خریدار کو بیچنے کی کوشش کی اور ڈپٹی رجسٹرار آفس گلبرگ میں رجسٹر کرانے کی کوشش بھی کی ان کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف شکایت کی گئی اور حقائق رجسٹرار کے سامنے رکھے گئے تو انہوں نے رجسٹریشن کا پورا پروسس روک دیا ۔ ڈی آئی جی کے آفس میں ایک اور بھائی اسرار العباد کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی تمام حقائق بتائے گئے اور 29 اپریل 2019 کو وکیل سردار طارق نیازی کی طرف سے باقاعدہ شکایت دفتر میں جمع کرا دی گئی ۔
اب اس پورے معاملے کی صورتحال یہ ہے کہ مسٹر عامر العباد کی طرف سے تین غیرقانونی اقدامات سامنے آچکے ہیں ۔


پہلا یہ کہ وہ وکیل سردار طارق نیازی کو فروخت کنندگان کی جانب سے 40 لاکھ روپے دینے میں ناکام رہے ۔جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے ادائیگی سے صاف انکار کردیا
دوسری بات یہ کہ انہوں نے ایک اور خریدار کے ساتھ غیر قانونی طور پر معاہدے میں خود کو شریک کر لیا جبکہ پہلے معاہدے کے تحت پہلے خریدار سے وہ 40 لاکھ روپے کی ایڈوانس رقم وصول کر چکے تھے اور 9 اپریل 2019 کو انہیں دی گئی پاور آف اٹارنی کینسل کر دی گئی تھی جس کے بارے میں نے اسی دن بتا بھی دیا گیا تھا اس کے باوجود انہوں نے 11 اپریل 2019 کو خود کو دوسرے غیر قانونی معاہدے میں شامل کرکے غیر قانونی اقدام کیا بار بار یاد دہانی کے باوجود انہوں نے رقم ادا نہیں کی ان مذکورہ بالا اقدامات سے ان کی بدنیتی کا اظہار ہوتا ہے ۔
دوسری جانب میڈیا میں خبروں کے ذریعے اس معاملے کو ایسا تاثر دیا گیا جیسے اس معاملے میں قصوروار شخصیت عامر العباد کی نہیں بلکہ دیگربہن بھائیوں کا قصور ہے حالانکے حقائق اس کے برعکس ہیں فیملی کی پراپرٹیز کے معاملے کو بلاوجہ میڈیا میں اچھالا گیا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی بھی فیملی کی طرح پراپرٹی کی خرید و فروخت کا ایک سیدھا اور سادہ معاملہ ہے جسے قانونی ورثہ نے اتفاق رائے سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن ایک شخص کی جانب سے فیملی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی وجہ سے یہ معاملہ التوا کا شکار ہوا اور پھر بات غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے سرکاری دفاتر اور پولیس تک پہنچ گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں