ظفیر الحق قاسمی کی جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو ملاقات وحید جنگ

ظفیر الحق  قاسمی نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شفافیت کے پیرامیٹرز کیا ہیں آپ لوگوں سے بات کریں تو وہ آپ کو تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں گے ۔پاکستان میں جس انداز سے الیکشن ہوتے ہیں اور جس طریقے سے الیکشن کے نتائج مرتب کئے جاتے ہیں اگر یہی طریقہ برقرار رہے تو ان میں شفافیت کہیں بھی نہیں ہے اور نہ ہی آپ یقین دہانی کرا سکتے ہیں کہ یہ نتائج شفافیت سے بھرپور ہیں البتہ میں نے ایک ایسا سافٹ ویئر تیارکرلیا ہے جو شفافیت کو برقرار بھی رکھتا ہے اور ساری دنیا میں تمام ووٹرز کو آگاہ کرتا ہے کہ کس طریقے سے ووٹنگ ہو رہی ہے ووٹنگ پیٹرن کو ڈیجیٹل طریقے سے سیٹلائٹ طریقے سے ووٹر کے سامنے رکھتا ہے یہ سافٹ ویئر میں نے تیار کرکے انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے حوالے سے محفوظ بھی کرلیا ہے اس کے حقوق کا میرے نام پر ہیں دنیا میں کسی ملک کے پاس بھی ایسے نہیں ہے۔
اس حوالے سے بل گیٹس نے ای میل کرکے مجھے سراہا ہے۔



ان خیالات کا اظہار سفیراللہ قاسمی نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے نمائندہ خصوصی وحید جنگ سے ایک نشست میں کیا ۔ظفیر الحق قاسمی  کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے لوگ ذہنی طور پر یورپ کے غلام ہو چکے ہیں جب ان کے سامنے کوئی نیا آئیڈیا رکھا جائے تو پہلا سوال یہ کرتے ہیں کہ کیا یہ یورپ میں ہو رہا ہے جواب ملے کہ نہیں تو کہتے ہیں پھر یہاں نہیں ہو سکتا ۔بدقسمتی بات ہے ہمارے لوگ یہ سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے کہ پاکستان میں جو لوگ رہتے ہیں وہ بھی کوئی ایسا کام کرسکتے ہیں جو یورپ میں نہیں ہورہا اور ہم انہیں نیا آئیڈیا دیکھ کر ان پر سبقت بھی لے جارہے ہیں اور انہیں اس کام کو فالو کرنے پر مجبور بھی کر سکتے ہیں۔
ظفیر الحق  قاسمی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرے اکثر کاموں کو نقل کر لیا جاتا ہے اس لیے میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے حوالے سے پہلے رجسٹریشن کراتا ہوں تاکہ یہ پراپرٹی رائٹس میرے نام پر منتقل ہوجائیں اس کے بعد اگر چوری بھی ہو تو میں ان کے خلاف کارروائی کر سکوں لیکن یہ بتاؤ کہ ایسا ہوتا ہے اور آپ کے خیالات اور آئیڈیاز کو چوری کر لیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ووٹر کا حق ہے کہ سے پتہ ہو کہ کس جگہ کس وقت کتنے ووٹ پڑے تھے مثال کے طور پر الیکشن ہوتے ہیں تو پاکستان بھر کے ووٹرز کو پتہ ہونا چاہئے کہ کراچی اور دیگر شہروں میں کس جگہ کے کتنے ووٹ ہیں وہاں کتنے ووٹ رجسٹرڈ ہیں اور وہاں پر بارہ بجے تک دو بجے تک تین بجے تک کتنے ووٹ کاسٹ ہوئے اور پھر انہیں اپنے ووٹ پیٹرن کا ٹائمنگ کا پتہ چل جائے اور یہ بات آئندہ کے لئے بھی ریکارڈ کا حصہ بنی رہے گی اسی طرح شفافیت آئے گی۔

وحید جنگظفیر الحق قاسمی سے گفتگو کرتے ہوئے

اپنا تبصرہ بھیجیں