چائنیز مائننگ کمپنی اور سیندک پروجیکٹ کے ورکرز کے درمیان تاریخی معاہدے کے باوجود ورکرز ہڑتال پر چلے گئے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چائنیز مائننگ کمپنی اور سیندک پروجیکٹ کے ورکرز کے درمیان ایک زبردست معاہدہ طے پایا تھا جسے ایک تاریخی معاہدہ بھی قرار دیا جا رہا تھا جس میں چائنیز کمپنی کی جانب سے ورکروں کو بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اب ان ورکرز کو ایک ہفتے سے ہڑتال پر جانا پڑا ہے کیونکہ مقامی ایم این اے نے چوبیس گھنٹے ملازمین سے کام لینے کا دباؤ ڈال رکھا ہے اور ان کی اجرت بھی کم ہے یہ علاقہ سونا تانبا اور سفید گولڈ اور لوہے جیسی معدنیات سے بھرا پڑا ہے اور یہاں ہائر ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے اٹھارویں ترمیم کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے سینڈک منصوبہ وفاقی حکومت کے حوالے کردیا تھا اور موجودہ چیئرمین سینیٹ کے بھائی محمد رفیق سنجرانی کو پروجیکٹ کا ایم ڈی مقرر کیا گیا تھا.

The agreement was signed between workers and Chinese mining company of Saindak project. This is historical agreement signed First time between Chinese company and workers to provide facilities to workers. Workers were on strike since last one week for thirr demands. Area MNA Ashig Notizai claimed that company forced workers to work 24 hours but paying less then other mining workers. He said the area reserved of gold, coper and white gold and iron being used higher technology. The recovering minirals send to China for libortry check. After the 18 amendment the then govt of PPP transferred the Saindak to federal government and Muhammad Rafiq sanjarani, brother of present chairman Senate appointed as MD of the project.

اپنا تبصرہ بھیجیں