وفاقی وزیر نے وزارت جوتے کی نوک پر رکھ دی

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کم عمری کی شادی سے متعلق ترمیمی بل پر بحث کے دوران کیا یہ بالکل قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکمران جماعت سے ہی تعلق رکھنے والے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے پیش کیا تھا لیکن حکمران جماعت کی جانب سے پیش کردہ ہے اس بل پر وفاقی وزراء آمنہ سامنے آگئے وفاقی وزیرداخلہ اعجازشاہ مذہبی امور کے وزیر نور الحق قادری اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے بل کی مخالفت کر دی جبکہ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور اپوزیشن کی بات جماعتوں کرکان نے بل کی حمایت کی ۔مذہبی امور کے وزیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیج دینا چاہیے جس کی وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بال اسلام سے متعلق ہے لیکن لکھنے والے اقلیتی ممبر ہیں ہم اسلام کے خلاف کوئی قانون منظور نہیں ہونے دیں گے بل کی مخالفت کرتا ہوں چاہے وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے ۔


ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ وہ بال کی حمایت کرتی ہیں پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون پاس نہیں کرسکتی جو اسلام کے خلاف ہے انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کی پابندی یواےای بنگلہ دیش میں بھی ہے کیا وہ ہوا ہے ایسا ہی فتوی جامعہ الازہر نے دیا کیا خلاف اسلام دیا انہوں نے تجویز پیش کی کہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا جائے ۔نون لیگ کی شائستہ پرویز نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بال متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا جائے جبکہ ایم ایم اے کے شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ہم بالکل مخالفت کرتے ہیں جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بال متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا لیکن قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے پر ووٹنگ کرائی گئی تو پچاس کے مقابلے میں بہتر ووٹوں کی حمایت سے چائلڈ میرج ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں