نواز شریف عید برطانیہ میں کریں گے

سابق وزیراعظم نواز شریف کے عدالتوں کے چکر اور نئی درخواستیں لگانے کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا نواز شریف کی جانب سے 6 ہفتوں کی ضمانت میں توسیع کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جسے جمعہ کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے نواز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ 26 مارچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے اس پر فیصلہ ہونے تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی جائے ۔نہ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ امید ہے سپریم کورٹ سے نظر ثانی کی درخواست منظور ہو جائے گی یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے ال عزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کیا گیا تھا نواز شریف نے طبی بنیادوں پر سزا کی معطلی اور ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت عظمیٰ نے انہیں طبی بنیادوں پرتو ضمانت دے دی تھی  لیکن انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا تھا۔



اطلاعات آرہی ہیں کہ نواز شریف کی لندن جانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اگر سپریم کورٹ سے ان کی ضمانت میں توسیع ہوگئی اور انھیں بیرون ملک سفر کرنے اور وہاں علاج کی غرض سے جانے کی اجازت مل گئی تو سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پھر نواز شریف عید وہیں پر کریں گے ۔وزیراعظم کی حیثیت سے بھی نواز شریف نے کئی مرتبہ عید کے موقع پر بیرون ملک ہیں وقت گزارا لیکن جب سے ان کی اہلیہ کلثوم نواز شریف کا انتقال ہوا ہے وہ وہ مجھے مجھے سے نظر آتے ہیں اور انہوں نے سیاست میں بھی بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے ان کے ساتھ ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے بھی چپ کر روزہ رکھا ہوا ہے اور اکادکا ٹویٹ کرنے کے علاوہ کوئی سیاسی بیان بازی نہیں کر رہی ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف لندن میں ہوم ورک کر رہے ہیں اور وہاں اسحاق ڈار پہلے سے موجود ہیں نواز شریف کے اپنے صاحبزادے بھی وہاں پر خاندان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں ان حالات میں اگر نواز شریف کو گرون ملک سفر کی اجازت مل گئی تو وہ پہلی فرصت میں لندن پہنچیں گے اور وہاں خاندان اکٹھا ہوگا اور مستقبل کا سیاسی لائحہ عمل طے کرنے کیلئے مشاورت ہوگی لیکن یہ طے ہے کہ اگر نواز شریف بیرون ملک گئے تو انہیں کچھ شرائط پر عمل کرنا ہوگا اور ایک شرط سیاسی خاموشی کو برقرار رکھنا ہو سکتی ہے لہذا نواز شریف کی جانب سے فوری طور پر حکومت مخالف کسی تحریک کا حصہ بننے یا حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کوئی حکمت عملی سامنے لانے کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آرہا البتہ شہباز شریف اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو نیب کی مقدمے بازی و اور گرفتاریوں سے بچانے اور حکومت کے دباؤ سے نکلنے کے لیے حکومت پر جوابی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں اس کام کے لیے انہیں نوازشریف کی کلیئرنس درکار ہوگی تاکہ پارٹی کے حوالے سے وہ آزادانہ فیصلے کر سکیں

اپنا تبصرہ بھیجیں