آغا سراج درانی کی گرفتاری پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں آمنے سامنے

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی نیب کے ہاتھوں اسلام آباد میں گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے نیب کے اقدام پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اسے جمہوریت کے لئے چیلنج کر دیا گیا ہے اور اب حکومت کے خلاف اپریل سے نئی تحریک شروع کرنے پر غور ہو رہا ہے ۔نیب نے آغا سراج دورانی کو آمدن سے زائد اثاثہ جات و اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت دیگر الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے اور ان کے اہلخانہ کو بھی کیس میں شامل کر لیا ہے آغاسراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کرنے کے بعد ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرکے کراچی منتقل کردیا گیا آغا سراج درانی نے اسلام آباد میں گرفتاری کے بعد عدالتی پیشی کے موقع پر کہا کہ سب جانتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے میں اپنے خلاف مقدمے کا مقابلہ عدالت میں کروں گا مجھے اسلام آباد میں ایک دعوت پر بلایا گیا تھا یہاں آیا تو گرفتار کر لیا گیا نا تو میرے خلاف کوئی انکوائری میں مجھے بلایا گیا تھا عنہ نے آپ کے دفتر میں مجھے طلب کیا گیا تھا ۔آغا سراج درانی کی گرفتاری پر سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اسلام آباد اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لندن میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے نیب کیس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے بھی اس اقدام اور گرفتاری کی مذمت کی پیپلز پارٹی کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور اس صورتحال پر جوابی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں صوبائی وزرا اور پارٹی عہدے داروں نے آغا سراج درانی کے گھر پر پہنچ کر اہل خانہ سے ملاقات کی کوشش کی لیکن نیب نے گھر پر چھاپہ مار کر اہل خانہ سے پوچھ کر شروع کی اور کسی کو بھی اندر داخلے کی اجازت نہیں دی گئی پیپلز پارٹی کے صوبائی وزرا سمیت پارٹی عہدیداروں اور جیالوں کی بڑی تعداد نے آغا سراج درانی کے گھر کے باہر احتجاجی دھرنا دیا اطلاعات کے مطابق آغا سراج درانی کی اہلیہ کی طبیعت خراب ہو گئی ان کے لیے ڈاکٹر بلایا گیا جب فیملی ڈاکٹر وہاں پہنچے تو انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی نیب کی ٹیم نے گھر کی مکمل تلاشی لی اور پوچھ گچھ کی کروڑوں روپے مالیت کی پراپرٹی کی دستاویزات متعدد گاڑیوں کی تفصیلات اور اہم فائلیں نیب کی ٹیم اپنے ہمراہ بکس میں بند کر کرکے لے گئی ۔۔۔۔۔سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر آغاسراج درانی کو اسلام آباد میں کیوں گرفتار کیا گیا ہے کیا وجہ تھی کہ ان کو کراچی آنے کا انتظار نہیں کیا گیا اور جب وہ کراچی میں تھے تو اس وقت انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا کیا آگے سنائی جنانی اسلام آباد سے کہیں فرار ہوسکتے تھے کیا اس خدشے کی بنا پر ان کو وہاں سے گرفتار کرکے کراچی لایا گیا یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آغا سراج درانی اسلام آباد کیوں گئے تھے انہیں کس نے بلایا تھا اور کیا وہاں پر انہیں بلاک کرے جال بچھایا گیا ہے اور ان کی گرفتاری عمل میں آئی ۔۔۔۔۔۔ماضی میں بھی اس پارٹی کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن میں بیرون ملک سے وطن واپسی پر اسلامآباد ائیرپورٹ سے ہی گرفتار ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔او آغا سراج دورانی بھی سندھ کی بجائے اسلام آباد سے گرفتار ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آغا سراج دورانی کا شمار پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کی انتہائی بااعتماد خصوصی نعت زرداری کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے وہ پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے جانثاران میں شامل تھے بلاول بھٹو سمیت آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کے بچوں کی لاڑکانہ آمد اور رونے سے نقل و حمل کے دوران بھی گیارہ سکیورٹی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ان کا تعلق سندھ کے انتہائی باوقار اور مقبول سیاسی گھرانے سے ہے ان کے دادا اور ان کے والد بھی اس سیاست میں سرگرم رہے اور سندھ کی سیاست میں ان کا خاص کردار رہا سندھ کی سیاست میں ان کا خاص کردار رہا خدا کا سراج رانی متعدد الیکشن جیتے اور سوزوکی مرتبہ صوبائی وزیر بنے اور پھر انہیں اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب کیا گیا اس وقت وہ ایوان کے کے کسٹوڈین ہے اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ یہ بات قابل ذکرہے کی آغا سراج درانی بڑے پیر صاحب پگارہ کے داماد اور موجودہ پیر پگارا کے بہنوئی ہیں لیکن مسلم لیگ فنکشنل نے پی ٹی آئی کی طرح اس گرفتاری پر ہے نیب کے ایکشن کو کو درست قرار دیا ہے یونس سائین نے اس حوالے سے بیان دیا ہے دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے آبادی سراے درانی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کردیا ہے ۔۔۔۔۔البتہ ایم کیو ایم نے غیرجانبدارانہ تحقیقات پر زور دیا ہے اور آغا سراج درانی کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی پوری قیادت سراپا احتجاج ہے از گرفتاری کو مزید گرفتاریوں کی جانب اہم پیش کرنے قرار دیا جا رہا ہے سیاسی حلقوں میں یہ تبصرے جاری ہیں کہ طبل جنگ بج گیا ہے عباسی زرداری اور پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے سامنے آگئے ہیں آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ہونے والی ہیں ملاقاتوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ حکومت کے خلاف اپریل کے شروع سے ایک نئی تحریک شروع کرنے پر غور ہو رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں