ادارہ ترقیات کراچی میں دو کروڑ لاگت کے ٹینڈر میں 30 فیصد بلو ریٹ پر بھی محکمہ جاتی پول کرائے جانے کا انکشاف

کراچی(اسٹاف رپورٹر) گریڈ17کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئرز کے ذریعے خلاف ضابطہ طور پر این آئی ٹی طلب کی گئی تھی،کے ڈی اے کے چیف انجینئر رام چند نے اپنے چہیتے اے ڈبل ای کو ایکسئن کا چارج دیکر قوانین کیخلاف ٹینڈر طلب کئے جس میں کمپٹیشن کے بعد 30 فیصد بلو ریٹ ڈالنے والے کنٹریکٹرز کے مابین بھی پول کرادیا گیا، ٹھیکوں میں کرپشن اور بدعنوانیاں روکنے کیلئے سیپرا کی تمام تر کوشش ناکام ہوکر رہ گئیں،جونیئر افسرسے خلاف ضابطہ ٹینڈر طلب کرائے جانے اور محکمہ جاتی پول کے ذریعے ٹینڈر ٹھکانے لگائے جانے کیخلاف کنٹریکٹرز کا احتجاج، نیب،اینٹی کرپشن سے فوری تحقیقات جبکہ وزیر بلدیات اور ڈی جی کے ڈی اے سے سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی(کے ڈی اے) میں گذشتہ دنوں حیران کن طور پر ایک گریڈ17کے اے ڈبل ای منظور راجپوت کی جانب سے دو کروڑ لاگت کے کام کیلئے ٹینڈر طلب کیا گیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے کے چیف انجینئر رام چند نے اپنے چہیتے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر کو ایکسئن کے چارج سے نواز رکھا ہے،سینئر کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ گریڈ17کے اسسٹنٹ انجینئر کو اختیار نہیں ہے کہ وہ ٹینڈر طلب کرسکے تاہم اس کے باجود کے ڈی اے میں جاری اندھیر نگری کے باعث ٹینڈر طلب کئے گئے،کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹینڈر جو کہ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر ٹرنچز کے کام کا تھا مذکورہ ٹینڈر میں کنٹریکٹرز کی جانب سے زبردست کمپٹیشن کیا گیا ،اس موقع پر متعدد کنٹریکٹرز نے 30 فیصد بلو کے ریٹ ڈالے تھے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک جیسے ریٹ ڈالے جانے پر اسکروٹنی کے بجائے ٹھیکیداروں سے معاملات طے کئے جاتے رہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے افسران کی مبینہ آشیرباد سے کنٹریکٹرز کے مابین محکمہ جاتی پول کرادیا گیاہے اور تمام قوانین کو پیرو تلے روند دیا گیا ہے،کراچی کے سینئر کنٹریکٹرز نے جونیئر افسر سے خلاف ضابطہ ٹینڈرز طلب کرائے جانے اور محکمہ جاتی پول پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر بلدیات اور چیئرمین گورننگ باڈی سعید غنی اور ڈی جی کے ڈی اے منصور عباس سے اس سلسلے میں فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے،کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ بھاری کمیشن وصولی کے باعث تمام قوانین کو یکسر نظر انداز کیا گیا جس پر عدالت عالیہ سے رجوع کا فیصلہ کرلیا ہے،کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے چہیتوں میں تقسیم کرنے کیلئے افسران نے نت نئے طریقے ایجاد کرلئے ہیں جس کے باعث سیپرا کی ٹھیکوں میں کی جانے والی بدعنوانیاں روکنے کی تما م تر کوششیں بری طرح سے ناکام ہوکر رہ گئی ہے،کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اس سلسلے میں اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں