کورنگی انڈسٹریل ایریا میں واقع فیکٹری کے سامنے” مزدور دھرنا ” دیا گیا۔

کراچی (پ۔ ر) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشنپاکستان کے زیر اہتمام فیکٹریوں کارخانوں میں جاری لاقانونیت اور مزدور قوانین کی مسلسلخلاف ورزیوں کے خلاف بلال چورنگی،  کورنگی انڈسٹریل ایریا میں واقع فیکٹری کےسامنے” مزدور دھرنا ” دیا گیا۔ احتجاجی دھرنے کی قیادت فیڈریشن کے صوبائیصدر کامریڈ گل رحمان اور ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی جنرل سکریٹری کامریڈ زہرہخان نے کی ۔ دھرنے میں مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاج میں شریک محنت کش اپنےمطالبات پر مبنی بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے نعرے لگا رہے تھے۔
 
دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ناصر منصور،سکریٹری جنرل نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان ، این ٹی یوایف ، نے کہا کہ صنعت کاروںنے فیکٹریوں اور کارگاہوں کو مذبح خانوں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مزدوروں کا معاشیقتل عام کیا جا رہا ہے۔ فیکٹریوں میں لیبر قوانین کے تحت لازم ہے کہ مزدوروں کو تحریریتقرر نامہ دئیے جائیں لیکن پچانوے فی صد مزدرو اس قانونی حق سے محروم ہیں۔ جس کے نتیجےمیں وہ اپنے تمام دیگر قانونی مراعات اور آئینی حقوق کا حصول بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ فیکٹریوں میں یونینسازی کو جرم بنا دیا گیا ہے ، ایک فی صد سے بھی کم اداروں میں مزدور اس حق سے مستفیدہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے صنعتی اداروں میں سرکاری طور پر اعلان کردہ کم از کم اجرت سترہہزار پانچ سو روپے ماہانہ جو کہ غیر ہنرمند ورکرز کے لئے ہے  نہیں دی جاتی جبکہ ہنر مندوں کے لئے اعلان کردہ اجرتوں کا حصول خواب ہی ہے۔ پچانوے فی صد ورکرز سوشلسیکورٹی اور پینشن کے اداروں سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ قانونی طور پر مستقل نوعیت کے کامکے لئے مستقل ملازمت ضروری ہے لیکن ملکی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئےٹھیکہ داری کو مسلط کر دیا گیا ہے۔ ٹھیکہ داری نظام کو سپریم کورٹ آف پاکستان بھی غیرقانونی قرار دے چکی ہے ۔
 
ٹیکسٹائل گارمنٹس جنرل ورکرز یونین کےسربراہ غلام نبی نے کہا کہ ایکسپورٹ سے متعلق ٹیکسٹائل اور گارمنٹس فیکٹریاں ملکی لیبرقوانین کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان فیکٹریوں میں مزدرو اکیسویں صدی میں بھی غلامیکے سے حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان فیکٹریوں میں مزدوروں سے قانون کے برخلافجبری دو سو گھنٹے ماہانہ سے زائد اوور ٹائم کرایا جاتا ہے اور اس کی اجرت بھی ادا نہیںکی جاتی۔ ملبوسات کے بڑے بین الاقوامی برانڈز اس مجرمانہ عمل میں برابر کے شریک ہیںاور اپنے طرز عمل سے پاکستان کے یورپی یونین سے کئے گئے جی ایس پی پلس معاہدے کی صریحاخلاف ورزی کر رہے ہیں۔
 
ہوم بیسڈ یونائیٹیڈ ورکرز یونین کی جنرلسکریٹری سائرہ فیروز کھوڑو نے کہا کہ کئی ایک غیر ملکی برانڈز جن میں ایچ اینڈ ایم(H&M)،  پریمارک (PRIMARK)،  انڈیٹیکس (INDETEX)،  اور دیگر شامل ہیں وہ بین الاقوامی مزدورتنظیموں  سے کئے گئے گوبل ایگریمنٹس (GFA)  کی تحت فیکٹریوں میں ان برانڈز کے لئے مصنوعاتتیار کی جاتی ہیں مزدوروں کو حقوق دینے سے انکاری ہیں ۔ 
 
انہوں نے مزید کہا کہ ان برانڈز کے لئےمال تیار کرنے والی فیکٹریوں میں خواتین مزدرو بدستور ہر قسم کی بشمول جنسی ہراسگیکا شکار ہیں۔ کئی ایک فیکٹریوں جن میں آرٹسٹک اپیرل شامل ہیں وہاں عورتوں کو زبردستیرات دیر تک کام کے بہانے روکا جاتا ہے۔ ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو بلاجوازملازمتوں سے برخاست کرنا معمول بن گیا ہے اور آواز اٹھانے پر فیکٹریوں کے پالے ہوئےغنڈے تشدد کرتے ہیں ۔
 
دھرنے میں مطالبہ کیا گیا کہ فیکٹریوںخصوصا ٹیکسٹائل اور گارمنٹ کے مزدوروں کو تحریری تقرر نامہ جاری کئے جائیں،  ورکرزکو سوشل سیکورٹی اور ای او بی آئی سے رجسٹرڈ کیا جائے اور انہیں ان اداروں کے کاررڈدئے جائیں ۔ فیکٹریوں میں جاری غیر قانونی ٹھیکہ داری نظام ختم کیا جائے ، سپریم کورٹٹھیکہ داری نظام کو جاری رکھنے والی فیکٹریوں کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلائیں۔غیر ہنر مند اور ہنر مند مزدوروں کے لیے سرکاری طور پر اعلان کردہ اجرتوں کے اعلانپر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ مزدور عورتوں کو جبرا رات دیر تک روکنے کا سلسلہفی الفور بند کیا جائے۔ قانون کے مطابق آڑتالیس گھنٹے ماہانہ سے زائد اوور ٹائم پرمزدوروں کو مجبور نہ کیا جائے ، اوور ٹائم کی دو گنی اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنایاجائے ۔ غیر قانونی برطرف مزدوروں کو فی الفور بحال کیا جائے۔ فیکٹریوں میں یونین سازیاور اجتماعی سوداکاری کے حق کو بحال کیا جائے ۔ قانونی چھٹیوں کے حق کو تسلیم کیا جائےاور چھٹی پر اجرتوں کی غیرطقانونی کٹوتی ختم کی جائے۔ فیکٹریوں میں مزدوروں کو خوفزدہ کرنے کے لئے رکھے گئے غنڈوں کو فیکٹریوں سے نکالا جائے ۔ بونس کا اجراء یقینی بنایاجائے ۔ 
 
جاری کردہ  2004418 0316