تھر کول منصوبہ گڈ گورننس کی اعلیٰ مثال … تحریر امتیاز احمد شیخ ، وزیر توانائی سندھ

دس اپریل پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی اہمیت کی حامل تاریخ ہے۔ یہ 10 اپریل ہی کی تاریخ تھی جب 1973میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ملک کو پہلا متفقہ دستور دیا۔ یہ بھی 10 اپریل کی تاریخ تھی جب 1986میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان کی سرزمین پر لاہور میں قدم رکھا اور تقریبا تیس لاکھ کے عوامی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے ضیائی آمریت کو للکارا اور یہ بھی 10پریل 2019 کی تاریخ تھی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے تھرکول منصوبے سے روزانہ 330میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ کو دینے والے تھرکول منصوبے کے باقاعدہ افتتاح کی یادگار تقریب منعقد کر کے ساری دنیا کو باور کرایا کہ پاکستانی قوم، پاکستان کی عوام دوست قیادت ،ہمارے انجینئرز اور ماہرین ناممکن کو ممکن بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔



”اس کو کہتے ہیں گڈ گورنینس، اس کو کہتے ہیں ڈیلیوری اور اس کو کہتے ہیں میگا پروجیکٹ “ یہ وہ الفاظ ہیں جو 10اپریل 2019 کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑ ے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروجیکٹ سے بجلی پیدا کرنے کے کامیاب منصوبے کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ادا کیے ۔ انہوں نے تھرکول منصوبے کی کامیابی پر پوری پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے نیا تھر یہ ہے نیا پاکستان۔
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے قوم کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے وژن اور مستقل مزاجی سے عوام کی فلاح کے منصوبوں کے لیے کی گئی جدوجہد کی تاریخ پیش کرتے ہوئے یہ بھی یاد دلایا کہ 1994میں اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے سندھ کے ریت اڑا تے صحرا میں تھرکول منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور ملک کی توانائی کے مسائل کے حل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے تھرکول منصوبے کو پاکستان کی پائیدار ترقی کا ضامن منصوبہ قرار دیا تھا ۔بلاول بھٹو زرداری کی خوشی اس وقت دیدنی تھی جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ تھرکول منصوبے کا جو خواب 1994میں ان کی والدہ نے دیکھا تھا اسے آج ان کے ہاتھوں تعبیر مل رہی ہے۔


تھرکول منصوبے سے بجلی پیدا کرنے کے خوابناک منصوبے کو تعبیر سے ہمکنار ہوتا دیکھنا نہ صرف سندھ حکومت بلکہ وفاق پاکستان کی تمام صوبائی حکومتوں اور پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک تاریخی خوشخبری ہے ۔تھر کی زمین میں سینکڑوں فٹ گہرائی میں دفن کالے سونے کو نکال کر اس سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگانا اور بجلی بنا لینا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یقینا ایک بہت بڑی کامیابی ہے اس کامیابی کا سہرا جہاں ہماری قیادت کے وژن اور مستقل مزاجی کو جاتا ہے وہیں اس کامیابی میں ہمارے چینی دوستوں کی بھی بھرپور مدد اور تعاون شامل ہے۔
تھرکول جیسے انتہائی خطیر لاگت والے میگا پروجیکٹ کے لیے 2008 میں پاکستان میں بننے والی پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت نے مصمم ارادے کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ۔ اس منصوبے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔



تھرکول منصوبے کے لیے سندھ حکومت نے نجی کمپنی اینگروکے ساتھ مل کر ”سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی “کی بنیاد رکھی یوں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری نجی مشترکہ منصوبہ شروع ہوا ۔تھرکول منصوبے کی راہ میں بہت سی مشکلات آئیں ۔تھر کول کے خلاف یہ پروپیگنڈہ بھی ہوا کہ اس کوئلے میں بجلی بنانے کی سکت نہیں ہے لیکن سندھ حکومت کے عزم اور ہمارے انجینئرز کی جہد مسلسل (جس میں ہمارے عظیم دوست ملک چین کے ماہرین کا خصوصی کردار بھی شامل ہے )نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے وژن اور سندھ حکومت کے عزم کو درست ثابت کر دکھایا۔ 18 مارچ 2019 وہ پہلا دن تھا جس روز تھر کول سے بنائی جانے والی 330میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں داخل کی گئی وہ دن اور آج کا دن ہے تھر کول منصوبہ روزانہ یہ بجلی نیشنل گرڈ کو دے رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہم اپنی ملکی ضروریات کی تمام تر بجلی تھرکول منصوبے سے حاصل کر لیں گے کیونکہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد سندھ حکومت کے محکمہ توانائی نے تھرکول بلاک II میں مزید 3.8ملین ٹن کوئلہ نکالنے اور اس اضافی کوئلے سے 330-330میگاواٹ روزانہ بجلی پیدا کرنے کے مزید دو نئے پاور پلانٹس لگانے کے لئے نجی کمپنی حیسکوگروپ کی ماتحت کمپنیوں تھر انرجی لمیٹڈ اور تھل نووا کے ساتھ معاہدے پر کام شروع کر دیا ہے اس نئے منصوبے کے آغاز سے تھرکول بلاک IIمیں یہ کمپنیاں کوئلہ نکالنے کے لیے توسیعی کھدائی شروع کریں گی جس سے نکلنے والے کوئلے سے دو نئے پاور پلانٹ لگائے جائیں گے اور اس توسیعی کھدائی کے منصوبے پر 216ملین ڈالر لاگت آئے گی جس کے بعد تھر کول کے دیگر بلاکس میں بھی کھدائی کرکے کوئلہ نکالنے اور بجلی بنانے کے دیگر منصوبوں پر کام جاری و ساری رہے گا تاوقتیکہ پاکستان اپنی ضروریات کی تمام تر بجلی اپنے وسائل سے پیدا کرسکے کوئلے سے مطلوبہ بجلی حاصل کرلینے کے بعد آئل اور ایل این جی گیس درآمد کرنے پر خرچ ہونے والا ہمارا قیمتی زرمبادلہ نہ صرف بچایا جا سکے گا بلکہ ہم اس بچت سے حاصل شدہ رقم کو عوامی فلا ح کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔


تھرکول منصوبے کی قومی افادیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بحیثیت وزیر توانائی سندھ میں یہ بات بھی واضح کردینا چاہتا ہوں کہ سندھ حکومت نے تھرکول منصوبے سے تھر کے عوام کی بہبود کے لیے بھی متعدد منصوبے شروع کیے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا ہے کہ تھرکول منصوبے سے بننے والی بجلی تھر کے عوام کو بلامعاوضہ فراہم کی جائے گی یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام کوٹ تھر میں جہاں بلاک II واقع ہے یہاں سے بے دخل ہونے والے بارہ سو سے زائد خاندانوں کو کچھ فاصلے پر جدید طرز کے مکان مفت فراہم کیے گئے ہیںان تمام خاندانوں کو ایک لاکھ روپے سالانہ رائیلٹی کی مد میں بھی ادا کیے جائیں گے جبکہ ہر گھر سے ایک فرد کو لازمی اس منصوبے میں روزگار کی ضمانت بھی فراہم کی گئی ہے اس کے علاوہ تھری عوام کی بہبود کے لیے تھر فاو¿نڈیشن متعدد منصوبوں پر کام کررہی ہے جس کے تحت تھر کے نوجوانوں کے لئے تعلیم اور تربیت کے مختلف منصوبے تشکیل دیے گئے ہیں صحت کے شعبے میں اسلام کوٹ تھر میں سو بستروں کا ایک ہسپتال اس سال جون تک مکمل ہو جائے گا۔



کراچی سے تھر پہنچنے کے لیے براستہ ٹھٹھہ، سجاول، گولارچی، بدین ایک شاندار سڑک کی تعمیر کی گئی ہے صحرا کی گرمی میں ناگن کی طرح بل کھاتی اس سڑک پر سفر کرنے کا ایک عجیب ہی لطف ہے کراچی سے اسلام کوٹ تک کا سفر اب 4 سے 5 گھنٹوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
یہ سطور چونکہ تھرکول منصوبے کی بے مثال اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے لکھی جارہی ہیں اسلئے اس وقت توانائی کے شعبے میں سندھ میں جاری ونڈ اور سولر پاور منصوبوں پر فی الحال گفتگو سے ہم گریز کریں گے تاہم یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ سندھ حکومت نے سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی بنا لی ہے جو ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب کے لیے کام کر رہی ہے جبکہ صوبے میں ہوا ،سورج ، گوبر اور کچرے سے حاصل شدہ توانائی کے لئے متعدد منصوبوں پر بھی کام جاری ہے اور وہ دن دور نہیں جب سندھ پورے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو نہ صرف باآسانی پورا کر سکے گا بلکہ ہم اپنی بجلی کی پیداوار کو پڑوسی ملکوں کو فروخت کرنے کے بھی قابل ہو سکیں گے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں