گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کردیا۔ جہانگیر ترین اور پرویز الہیٰ غائب؟

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے گورنر ہاؤس میں سیاسی طاقت کا کامیابی سے مظاہرہ کیا ہے پنجاب اسمبلی کے 187 میں سے ایک سو پچیس ارکان ان کی دعوت پر گورنر ہاؤس میں دیے گئے عشائیے میں شریک ہوئے صدر عارف علوی اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بوزدار بھی پہنچ گئے نعیم الحق نمایاں تھے لیکن جن کی غیرموجودگی سب سے زیادہ محسوس کی گئی وہ سے جہانگیر ترین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ۔
عشائیے میں مسلم لیگ قاف کی قیادت کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن نہ تو چوہدری پرویز الہیٰ آئے نہ ہی انور چیمہ اور نہ ہی مسلم لیگ قاف کے دیگر رہنما۔
پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین مصروفیت کی وجہ سے نہیں آ سکے۔



گزشتہ دنوں یہ اطلاعات گردش کررہی تھی کہ جہانگیر ترین اور گورنرپنجاب کے درمیان اختلافات ہیں اور چوہدری پرویز الہیٰ بھی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے ناراض ہیں ناراضگی کی ایک وجہ واٹر فلٹر پلانٹ کا کام اپنی ذاتی این جی او کے ذریعے کرانے ہوں بتایا جاتا ہے سرور فاؤنڈیشن کی فنڈ ریزنگ کے لیے گورنر پنجاب خود بیرون ملک گئے ہوئے تھے اور انہیں آئین فنڈریزنگ کے دوران ہی واپس وطن بلالیا گیا تھا وہ فنڈریزنگ کا ہے کام چھوڑ کے واپس آ گئے لیکن وزیراعظم نے ان سے ملاقات نہیں کی چوہدری محمد سرور نے وزیر اعلی عثمان بزدار سے ملاقات کی اور یہ اتفاق کیا کہ اراکین پارلیمنٹ کی دعوت کی جائے اور انہیں عشائیہ پر مدعو کیا جائے چناچہ گورنر نے عشائیہ رکھا وزیراعلیٰ بھی شریک ہوگئے اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی بطور خاص آئے ۔ لیکن عشائیہ میں چوہدری پرویز الہیٰ اور جہانگیر ترین کی عدم شرکت نے نئے سوالات اٹھا دیے ہیں




اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے تجھے دونوں کاد اور سیاسی شخصیات بنر کے عشائیہ میں کیوں شریک نہیں ہوئی اور اس کا کیا پیغام سمجھا جائے ۔بظاہر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اپنی پوزیشن مستحکم دکھانے کے لئے اتنا بڑا سیاسی شو کیا ہے لیکن پارٹی کے اندرونی اختلافات سے آگاہی رکھنے والے دعویٰ کررہے ہیں کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں گورنر پنجاب کی مشکلات میں ابھی کمی نہیں آئی اگرچہ کوشش کی جارہی ہے کہ صورت حال کو بہتر اور نارمل دکھایا جائے لیکن اندرونی طور پر معاملات ایسے ہی نہیں جس طرح دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اطلاعات ہیں کہ گورنراوروزیراعلیٰ دونوں ایک ساتھ رخصت ہوں گے لہذا دونوں نے کمر کس لی ہے اور آپس میں ہاتھ ملا لیا ہے اور ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔



اپنا تبصرہ بھیجیں